
کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ مسٹر کشن ریڈی کی جانب سے دیئے گئے اس بیان پر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا ہے کہ جموںوکشمیر یو۔ٹی بننے کے بعداب یہاں کوئی بھی سیاسی رہنما نظر بند نہیں ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ مسٹر کشن ریڈی کی جانب سے دیئے گئے اس بیان پر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا ہے کہ جموںوکشمیر یو۔ٹی بننے کے بعداب یہاں کوئی بھی سیاسی رہنما نظر بند نہیں ہیں۔
بیان میں وزیر موصوف کے اس بیان کو حقیقت سے بعید اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ حریت چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق صاحب5 اگست2019 سے ہی مسلسل اپنے گھر میں نظر بند رکھے گئے ہیں اور5 فروری 2021 کو میرواعظ کی نظر بندی کو پورے ڈیڑھ سال مکمل ہو رہے ہیں اور اس طرح نظر بندی کے سبب موصوف کی جملہ پُر امن سرگرمیوں پر پہرے بٹھائے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزارت مملکت برائے داخلہ کے بقول اگر میرواعظ نظر بند نہیں ہے تو ان کی رہائش گاہ کے دروازے پر5 اگست 2019 سے ہی لگاتار پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کا کیا مطالب ہے بصورت دیگر میرواعظ کو اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔
حریت کانفرنس نے پھر واضح کیا کہ حریت چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نہ صرف ایک بین الاقوامی سطح کے سیاسی رہنما ہیں بلکہ کشمیر کے سب سے بڑے مذہبی اور دینی پیشوا بھی ہیں اور جنہیں مرکزی جامع مسجد سرینگر میں جمعتہ المبارک کے خطبات اور دینی مواعظ پیش کرنے پر بھی قدغن عائد ہے۔
بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ اس تناظر میں موصوف کی لگاتار خانہ نظر بندی کا نہ تو کوئی اخلاقی جواز ہے اور نہ ہی اس قدم کو قابل قبول قرار دیا جاسکتا ہے۔
حریت کانفرنس نے اپنا یہ اصولی مطالبہ پھر دہرایا کہ نہ صرف میرواعظ کی خانہ نظر بندی فوری ختم کی جائے تاکہ موصوف ماضی کی طرح اپنی دینی، ملی، سیاسی اور سماجی ذمہ داریاں انجام دے سکیں بلکہ5 اگست2019 اور اس سے قبل گرفتار کئے گئے سینکڑوں نوجوانوں، سیاسی قائدین، سول سوسائٹی کے افراد اور معززین شہر جوPSA اور دیگر کالے قوانین کے تحت جموںوکشمیر اوربھارت کی مختلف جیلوں جن میں تہاڑ جیل ، کوٹ بھلوال جیل ، جودھ پور جیل ، آگرہ جیل ، امپھلا جیل ، ہریانہ جیل وغیرہ شامل ہیں میں قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیںکو بلا مشروط رہا کیا جائے۔
