سرینگر میں چسپاں پوسٹرز میں شہدا کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ جمعرات کو گاﺅ کدل قتل عام کی 31 ویں برسی کے موقع پر سرینگر شہر میں ہڑتال کی اپیل

سرینگر18جنوری : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںپوسٹر زچسپاں کئے گئے ہیں جن میں 21 جنوری کو گاﺅ کدل قتل عام کی 31 ویں برسی کے موقع پر سرینگر شہر میں ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 21 جنوری 1990 ءکو سرینگر کے علاقے گاﺅ کدل میں بھارتی فوجیوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرے 50 سے زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید اور سیکڑوںکو زخمی کردیاتھا۔ مظاہرین بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔پوسٹروں میں متاثرین کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے شہدا کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے۔
جموں و کشمیر پیپلز پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین انجینئر ہلال احمد وار اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے بھی اس روز ہڑتال کی کال دی ہے۔انجینئر ہلال احمد وار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ تنازعہ کشمیرپیدا ہونے کے بعد یہ بھارتی فورسزکے ہاتھوں کشمیر میں پہلا بڑا قتل عام تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ قتل عام بھارتی وزارت داخلہ کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد کشمیری پنڈتوں کی کشمیر سے نقل مکانی کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ ہلال احمد وار نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پرزوردیا کہ وہ گاو ¿ کدل قتل عام کی تحقیقات کے لئے ایک آزادبین الاقوامی ٹریبونل قائم کریں۔
ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے کہا کہ گاو ¿ کدل ، ہندوارہ اور کپواڑہ کے قتل عام کشمیری عوام کو بھارتی مظالم کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کاحل نہ ہونا خطے میں قیام امن اور سیاسی استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لئے اقوام متحدہ کو اس تنازعے کے پرامن حل کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری آزادی کے مقدس مقصد کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ جبری فوجی قبضے کے بعد اس طرح کے قتل عام نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں ظلم وبربریت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے مقروض تھے۔