کیا آج کے انسان کو اشرف والمخلوقات کہنا صحیح ہے؟؟

(صبغہ قمر عباس (سیالکوٹ
آج کل کے انسان کو اشرف والمخلوقات کہنا کچھ غلط سا لگتا ہے۔اللہ نے انسان کو اشرف والمخلوقات بنا کر انسان پر احسان تو کیا ہے پر ہم انسان اس احسان کا شکر کرنے کی بجائے اس بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں ۔ جس انسان میں انسانیت ہی نہیں، میرے رب نے اسے اشرف والمخلوقات کا درجہ دیا ۔ کیوں؟؟ جھوٹ بولنا تو جیسے تمہاری عادت سی بن گئی ہے۔ جھوٹ بولتے وقت ذرہ نہیں سوچتے کے یہ گناہ کبیرہ ہے۔ جھوٹ بول کر کہتے ہیں کبھی کبھی بولنا پڑتا ہے،چلو اگلی دفعہ نہیں بولوں گی۔ خود سے یہ سب کہ کر اپنے اندر کے ضمیر کو خاموش تو کرا دیتے ہو پر تم غلط کرتے ہو۔ارشاد باری تعالی ہے: “”کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے۔ وہ نہ تم میں سے، نہ ان میں وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کو رکھا ہے””
اس وقت اپنے آپ کو بچانے کے لیے جھوٹی قسم تک کھا لیتے ہو ۔ تمہارے لیے کھیل ہوتا جھوٹ بھی اور جھوٹ قسم بھی۔کیا ایسے ہوتا اشرف والمخلوقات؟ میرے خیال میں اشرف والمخلوقات کو اتنی تو سمجھ ہونی چاہیے جو گناہ کو سمجھ کر اس کو زندگی سے نکال دے۔ پھر تم اشرف والمخلوقات کیسے ہوئے جو کبیرہ گناہ کرنے کو ہی زندگی سمجھتے ہو؟؟
کسی کا حق چھیننے میں تم ماہر ہو۔ ہر انسان اپنا حق لینا چاہتا ہے۔پر کوئی بھی کسی کا حق دینا نہیں چاہتا ہے۔دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے اس زمین دار کا حق چھین لیتے ہو ۔پیپر میں نکل کر کے تم دوسرے طلبہ کے نمبر لے لیتے ہو۔جن نمبروں پر اس کا حق تھا وہ تمہیں مل رہا ہوتا ہے۔ اک انسان ہی دوسرے انسان کا حق مارتا ہے۔تو کیسے ہوئے تم انسان اشرف والمخلوقات؟؟
ایک دوسرے کو درد میں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔حسد کرتے ہو جو گناہ ہے۔کسی کی خوشی بننے کی بجائے اس کا درد بنتے ہو۔ دوسروں کو شرمندہ کرنا خوب جانتے ہو۔ اور کرتے بھی ہو۔کوئی موقع نہیں چھوڑتے دوسرے کو تکلیف دینے کا۔ تو کیسے ہوئے تم اشرف والمخلوقات؟؟
ایک انسان کی بیماری کے پیچھے وجہ بھی انسان ہی ہوتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل و غارت پر اترنے والے تم انسان کیسے ہوئے اشرف والمخلوقات؟؟
اپنی بہن، بیٹیوں کی عزت کو بیچ بازار نیلام کرتے ہو کیسے ہوئے تم اشرف والمخلوقات؟؟ جانوروں کو گھر میں رکھ کر ان کے کھانے پینے کا خوب خیال کرتے یہاں تک کہ ان کے لیے الگ کمرہ رکھتے ہو اور والدین کو اناتخاشرم میں چھوڑ آتے ہو۔جنہوں نے تمہارے پچپن میں تمہاری ہزاروں غلطیوں کے باوجود تمہیں گھر میں رکھا انہیں بغیر غلطی کے گھر سے نکال دیتے ہو۔ اور اگر کوئی گھر میں ان کو پناہ دیتا بھی ہے تو ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتے ہو۔ تو کیسے ہوئے تم اشرف والمخلوقات؟؟ پیسے کے پیچھے اتنے پاگل ہو گئے ہو تم جو چوریوں پر اتر آئے ہو۔ لوگوں کو دکھے دیتے ہو ان کا مال ہڑپتے ہو۔ پیسوں کے لیے اپنے مالک سے ہی غداری کرتے ہو۔ تو کیسے ہوئے تم اشرف والمخلوقات ؟؟
تمہیں اشرف والمخلوقات کہا گیا کیوں؟؟ جانوروں کو بھی اشرف والمخلوقات کہا جا سکتا تھا انہیں کیوں نہیں کہا گیا ؟؟ تم انسانوں کو اشرف والمخلوقات اس لیے کہا گیا کہ تم میں میں سمجھ ہے ہر چیز کو کرنے کی، ہر چیز کو جانچنے کی، صیح اور غلط میں فرق کرنے کی، پر کیا فائدہ جب سمجھدار ہو کر بھی نا سمجھ ہوئے بیٹھے ہو۔صرف ایک سمجھ وجہ تھی کہ تمہیں اشرف والمخلوقات کا درجہ دیا جو تم نے خود میں ہی کہی گوا دی ہے۔تو کیا اب ہوئے تم اشرف والمخلوقات ؟؟ اب تم اپنے میں موجود ایک وجہ، صرف ایک وجہ بتاو جس سے تمہیں اشرف والمخلوقات کہا جائے۔ کوئی اک چھوٹی سی وجہ بتا دو صبغہ تمہیں اشرف والمخلوقات مانے گی۔یقینا کوئی وجہ نہیں ہے۔چوری، جھوٹ،تکبر، حق تلافی، قتل، حسد،غیبت، سود وغیرہ ہر گناہ تم میں پایا جاتا ہے۔ان سب گناہ کی سمجھ تم میں ہے پھر بھی تم کرتے ہو تو بتاو کیسے ہوئے تم اشرف والمخلوقات ؟؟ کیا گناہوں کے پتلے کو ہی اشرف والمخلوقات کہتے ہیں؟؟سود کو حرام کہا گیا وہ تم لیتے ہو،رشوت کے لیے ارشاد ہوا: رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جنت میں داخل نہیں کیے جائیں گے، وہ بھی تم لیتے ہو، جھوٹ، جو ہر گناہ کی جڑ سمجھا جاتا وہ تم بولتے ہو، خیانت کو حرام کہا گیا اس گناہ میں بھی تم شریک ہو،تکبر تم کررے ہو اور سن لو تکبر کرنے والوں کے لیے آسمانوں کے دروازے بند ہیں۔سب سمجھ تم میں بس گھونگے، بہرے بنے بیٹھے ہو۔یہاں گناہ کرنے والا بھی آزاد ہے اور گناہ کو دیکھنے والا بھی۔ کیوں؟؟
چوری کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دینا ہی اس کی سزا ہے تو کیوں چور کو سزا دی جاتی؟؟ قتل کی سزا پھانسی ہے تو کیوں قاتل کو پھانسی نہیں دی جاتی؟؟ جھوٹ بولنے والوں کی سزا زبان کاٹ دینا ہے تو کیوں انہیں سزا نہیں دی جاتی؟؟ آج اگر یہ قوم جہالت میں ہے تو بس اسی لیے کہ گناہگار کو اس کے گناہ کی سزا نہیں دی جا رہی ہے۔ آج میں صبغہ قمر عباس اپنے قلم کے ذریعے حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ گناہگار کو سزا کا قانون لاگو کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ کوئی گناہ کرتے وقت اس کی سزا کو پہلے سوچے اور سزا کے ڈر سے گناہ ہی نہ کرے