مقبوضہ کشمیر میں شعبہ بجلی کا نظام بھارتی فوج کے سپردکر دیا گیا شعبہ بجلی کی نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے شدید سردی کے موسم میں ریاست کے بیشترعلاقے اندھیرے میں ڈوب گئے

سری نگر() مقبوضہ کشمیر میں شعبہ بجلی کی نجکاری کے خلاف محکمہ کے ملازمین نے کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی  ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں بجلی کا  بڑا بریک ڈائون شروع ہو گیا ہے  اور کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ کشمیری عوام کو شدید ذہنی کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بجلی کے نظام کی بحالی کے لیے بھارتی فوج کو تعینات کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق شعبہ بجلی(پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (PDD)) کے ملازمین اور حکومت کے درمیان مذاکرات  ناکام ہوگئے ہیں ۔جموں و کشمیر میں لائن مین سے لے کر انجینئر تک محکمہ بجلی کے تمام ملازمین مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے نجکاری اقدام کے خلاف ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے شدید سردی کے اس موسم میں ریاست کے بیشترعلاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ پی ڈی ڈی کے ملازمین محکمے کے اثاثوں کو پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا (PGCIL) کے حوالے کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ایک بھارتی کارپوریشن ہے جس کا صدر دفتر گروگرام بھارت میں ہے اور بنیادی طور پر نجکاری کے نام پر بھارت کی مختلف ریاستوں میں بجلی کی ترسیل کا کام کرہی ہے۔ ملازمین اس اقدام کو آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت کی طرف سے مقامی ملازمین کی جگہ اپنے لوگوں کو لگانے کی سازش کے طور پر دیکھتے ہیں۔جموں و کشمیر پاور ایمپلائز اینڈ انجینئرز کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر منشی ماجد علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کی کال دی ہے کیونکہ حکومت ہمارے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے اورمحکمہ بجلی کے ملازمین اور انجینئرز کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ (JKPTCL) اور پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (PGCIL)کے مشترکہ منصوبے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی کال اس وقت دی گئی جب رابطہ کمیٹی نے JKPTCL اور PGCIL کے درمیان ٹرانسمیشن اور سب ٹرانسمیشن نیٹ ورکس کی دیکھ بھال اور ترقی کے لیے جوائنٹ وینچر کے سلگتے ہوئے مسئلے پر تفصیلی بحث کی۔ملازمین اس یکطرفہ فیصلے پر پریشان ہیں جو کارپوریشن کی نجکاری کی طرف ایک قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے کے پی ٹی سی ایل اور پی جی سی آئی ایل لمیٹڈ کے درمیان مجوزہ جوائنٹ وینچر کے معاہدے کا مسودہ منظر عام پر آ گیا ہے جس نے بجلی کے ملازمین کو حیران کر دیا ہے کہ اس انتہائی اہم مسوے کو فریقین کو اعتماد میں لئے بغیر خفیہ طورپر اور عجلت میں پیش کیاگیادریں اثنامقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی نصف شب سے بجلی کی بندش کے باعث احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ بجلی کی جلد بحالی کے لیے احتجاج کرنے والے ملازمین کے مطالبات پر غور کرے کیونکہ بجلی بند ہونے سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پی ڈی ڈی ملازمین نے اپنے کام کو دوبارہ شروع کرنے اور مطالبات کی تکمیل تک کسی بھی خرابی کو ٹھیک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔جموں و کشمیر پاور ایمپلائز کوآرڈینیشن کمیٹی (جے کے پی ای سی سی) کے چیئرمین جے پال شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لائن مین سے لے کر سینئر انجینئرز تک تمام یونینز اور انجمنیں غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں کیونکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ناکام ہو چکے ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔مودی حکومت نے بجلی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے بھارتی فوج کو جموں کے پاور اسٹیشنوں پر بلایا ہے۔ اس پیشرفت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سویلین انتظامیہ کی ناکامی کا اس سے بڑا کوئی اعتراف نہیں کہ فوج کو بلایا جائے، اس کا مطلب ہے کہ حکمرانی کی مکمل ناکامی کو حکام تسلیم کرتے ہیں۔