
عبدالصمد انقلابی کی نظربندی سے رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتاری کی مذمت
سرینگر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میںمیںاسلامی تنظیم آزادی نے پارٹی چیئرمین عبدالصمد انقلابی کی عدالتی احکامات پر سرینگر سنٹرل جیل سے رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلامی تنظیم آزادی کے ترجمان نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ عدالت نے عبدالصمد انقلابی کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے انکی رہائی کے احکامات دیے تھے تاہم رہائی کے فوراً بعد انہیںسرینگر سنٹرل جیل کے احاطے سے دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی پولیس نے عبدالصمد انقلابی کو 08 جولائی 2017 کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر کالا قانون ’’پبلک سیفٹی ایکٹ ‘‘ لاگو کر دیا تھا ۔ انہیں معروف کشمیری نوجوان رہنما شہید برہان مظفر وانی کی شہادت کی پہلی برسی پر شہید کے گھر منعقدہ ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔