مقبوضہ کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص کے خاتمے کا بھارتی منصوبہ 0 لاکھ نئے ڈومیسائل جاری ، وادی کی آبادی کم ظاہر کی جارہی ہے

سری نگر() بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا مسلم اکثریتی تشخص ختم کرنے کے لیے 40 لاکھ نئے ڈومیسائل جاری کر دیے ہیںجن افراد کونئے ڈومیسائل جاری کیے گئے ہیں ان میں اکثریت  ہندووں کی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد نئی ڈومیسائل پالیسی سے مسلم اکثریتی کشمیر کو مکمل طور پر ایک ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا مذموم بھارتی منصوبہ بے نقاب ہو چکاہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد  بھارتی حکومت  کے سرکاری اعدادوشمار میں مسلم اکثریتی علاقے وادی کشمیر کی آبادی 10 گنا سے زیادہ کم دکھائی گئی ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ(ایم ایچ اے)کے اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں کل 5,35,811 مستقل شہری ہیں جبکہ جموں کے علاقے میں 69,07,623 اور لداخ کے2,90,492 رہائشی ہیں۔بھارتی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق مقبوضہ وادی کے کشمیر خطے کی اصل آبادی 59 لاکھ سے زائد ہے۔وزارت داخلہ کے اعداد و شمار مقبوضہ جموں وکشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ25 لاکھ48 ہزار926 ظاہر کر ہے ہیں۔وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 28 فیصد اور لداخ میں 44فیصد ہیں۔جموں میں ہندو 66 فیصد اور لداخ میں بودھ 50 فیصد کے ساتھ اکثریت میں ہیں۔وادی کشمیر کے 10 اضلاع میں کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، بارہمولہ ، سری نگر ، بڈگام ، گاندربل ، پلوامہ ، کولگام ، شوپیاں اور اننت ناگ شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری اپنے سینوں پر بھارتی گولیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن کبھی بھی بھارت کے آگے سرنگوں نہیں ہونگے اور وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کے لیے پرعزم ہیں۔ بھارت کے غیر قانونی اقدامات نے جموں و کشمیر میں زندگی کے تمام شعبوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے لیکن اسکے باوجود کشمیری بھارتی تسلط سے سے آزادی کی جدوجہد پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی قیادت میں بھارت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو کمزور کرنے کے لیے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلیاں کر رہا ہے لہذا عالمی برادری کو چاہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کا محاسبہ کرے۔