
ملہ شاہی باغ بجلی کوہل کی مرمت میں تاخیر کاشاخسانہ
گاندربل//گاندربل سے ملحقہ علاقہ پھاک کے درجنوں دیہات میں گرمی کی لہر کی وجہ سے پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے،سینکڑوں کنال پر مشتمل زرعی اراضی میں موجود دھان کی پنیری،میوہ کے باغات سمیت سبزی کے کھیت سوکھ گئے ہیں۔علاقہ پھاک کے درجنوں دیہات کو پینے کا پانی اور سینکڑوں کنال کی زرعی اراضی کے لئے میسر پانی ملہ شاہی بجلی کوہل سے فراہم ہوتا تھا لیکن گزشتہ سال نومبر میں ملہ شاہی باغ کے علاقے میں کنال ڈھ جانے سے پھاک علاقے میں موجود بارہ ہزار سے زائد آبادی کے دیہات رنگل،کھلہ مولہ، بسرہ بگ، شہامہ،وارپوہ،باکورہ،ڈیڈی نوبگ، ہاڑورہ، سعید پورہ، کھمبر، چھتر ہامہ اوربٹہ پورہ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔سال 1960 میں بخشی غلام محمد کے دور حکومت میں پرنگ کنگن کے مقام پر بجلی کنال تعمیر کی گئی تھی جس کا پانی گاندربل پاور ہاؤس کوفراہم کیا جاتا تھا۔ اس کنال کو مزید وسعت دیکر علاقہ پھاک کے 44 علاقوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے علاوہ ہزاروں کنال زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے فراہم کیا جانے لگا۔سال 1982 میں شیخ محمد عبداللہ کی دور حکومت میں شہر سرینگر کو پانی کی فراہمی کے لئے رنگل ماسٹر پلان فلٹریشن پلانٹ عوام کے نام وقف کیا گیا جس کی وجہ سے علاقہ پھاک کے بیشتر علاقوں کو بجلی کوہل سے پانی کی سپلائی منقطع کردی گئی تاہم درجنوں دیہات کو اب بھی اسی بجلی کوہل سے پینے کے پانی کے علاوہ زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے پانی فراہم کیا جاتا تھا لیکن گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں ملہ شاہی باغ کے مقام پر کنال ڈھ جانے سے ان علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔رواں سال شدت کی گرمی اور لگاتار دو ماہ سے بارش نہ ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی اورسینکڑوں کنال زرعی اراضی میں موجود دھان کی پنیری،میوہ باغات میں موجود فصل،سبزی کے کھیت،سب سوکھ کر بنجر ہوگئے ۔حالات ایسے ہی رہے تو رواں سال قحط سالی کی وجہ سے ان علاقوں میں موجود سینکڑوں خاندانوں پر فاقہ کشی کی نوبت آجائے گی۔بیہامہ سے لیکر کھمبر تک بجلی کوہل علاقہ پھاک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے سست روی اور لاپرواہی سے جاری کام کی وجہ سے سال 2021 بھی پانی کی بوند بوند کے لئے ترسنے پر مجبور کردیئے جائیں گے۔علاقہ پھاک میں موجود درجنوں ٹیوب ویل بھی خشک ہوگئے ہیں۔پانی کی قلت کی وجہ سے مویشی اور پرندے بھی بغیر پانی کے مررہے ہیں۔علاقہ باکورہ کے مقامی شہری نصیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سال ملہ شاہی باغ کے مقام پر بجلی کوہل ڈھ جانے سے علاقہ پھاک میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی جس سے ہمارے کھیت کھلیان،میوہ باغات سمیت مویشی بھی خشک سالی کے شکار ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ضلع انتظامیہ سے کئی مرتبہ رابطہ کرکے پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا لیکن سال ختم ہونے کو آیا لیکن پانی کی فراہمی یقینی بن نہ ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ ہم احتجاجی مظاہرے اور دھرنا دیتے لیکن کروناوائرس وبائی بیماری کی وجہ سے ہم باہر نہیں نکل سکتے ہیں لیکن ضلع انتظامیہ اور محکمہ جل شکتی بھی ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملہ شاہی باغ کے مقام کوہل میں ہوئے شگاف کوٹھیک کرنے کے کام میں تیزی لائی جائے تاکہ ہمیں پانی میسر ہوسکے۔
via kashmir uzma news