
کشمیراب قبرستان میں تبدیل ہورہا ہے،بچوں کی لاشیں تک نہیں ملتیں کسی کو پاکستانی کہہ کر قتل کیا جا سکتا ہے کسی صحافی کو پتہ لگانے کی اجازت نہیں نعیمہ احمد مہجور والدین قبریں کھود کر بچوں کی لاشوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور جیل چلے جاتے ہیں
سری نگر() مقبوضہ کشمیر میں72 گھنٹوں میں ماورائے عدالت 9 کشمیریوں کے قتل پرمقامی اخبارات کو سرکاری بیانات کے سوا کچھ اورچھاپنے کی اجازت نہیں۔ جائے وقوعہ سے اطلاعات حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے ۔ کشمیر کو اب قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔چودہ پندرہ سال کے بچوں کو بارود میں ہلاک کیا جاتا ہے اور والدین قبریں کھود کر بچوں کی لاشوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر لواحقین کو انسداد دہشت گردی کے قانون میں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ لندن میں مقیم کشمیری خاتون صحافی نعیمہ احمد مہجور نے غیر ملکی نیوز پورٹل میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سری نگر کے حیدر پورہ میں دو روز پہلے ہونے والے اس خون ریز معرکے کی پوری حقیقت سامنے آئی جس کے بارے میں مقامی پولیس نے پہلے بیان جاری کیا کہ چار دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ بعد میں ہلاک شدہ الطاف احمد کے بارے میں بتایا کہ وہ ہوسکتا ہے کراس فائر میں ہلاک ہوگیا ہو جبکہ ڈاکٹر مدثر گل کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیا جو اس عمارت میں اپنے عملے سمیت موجود تھے۔حکومت کے مطابق وہ ایک دہشت گرد پاکستانی تھا۔ کسی رپورٹر یا صحافی کو یہ اجازت ہے کہ وہ پتہ لگائے کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایئر پورٹ، چند گز کے فاصلے پر پولیس ہیڈ کوارٹرز اور بغل میں فورسز کے ہمہامہ مرکز کی موجودگی میں ایک پاکستانی عمارت میں کیسے گھس آیا۔کے پی آئی کے مطابق نعیمہ احمد مہجور نے لکھا ہے کہ بقول ایک عینی شاہد ہندوستان میں آج کل کتنے مسلمانوں کو غائب کیا جا رہا ہے کسی کو بھی پاکستانی کہہ کر آپ ایک کہانی گھڑ سکتے ہیں۔ ایک تیر سے دو مقاصد حاصل ہو رہے ہیں، کشمیریوں کی نسل کشی اور ہندوستانی مسلمانوں سے چھٹکارا۔دوسرے عینی شواہد نے میڈیا کو بتایا کہ اس عمارت میں ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا کہ سکیورٹی کے چند اہلکار مقامی پوشاک یعنی پھرن پہن کر پہنچ گئے جس کے فورا بعد سکیورٹی کی مختلف اداروں کی گاڑیاں فوجی بھر بھر لے آئیں اور سڑکوں سمیت عمارت کو بند کر دیا۔ ہر کوئی اپنی جگہ پر جیسے ساکت ہوگیا اور ہمیں چاروں طرف سے گھیرا گیا۔ہلاک شدہ دکاندار الطاف احمد کی بیٹی کہتی ہیں کہ ان کے والد کو دوبار عمارت میں لیجایا گیا اور پھر واپس لایا گیا لیکن تیسری بار ان کو عمارت میں لے جا کر وہیں پر ڈھیر کر دیا گیا۔مقامی میڈیا نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر مدثر نے ان شہریوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کو دیکھا تھا جس کی سزا انہیں گولی کے طور پر ملی اور ان کے ملازم کو بھی اس پاداش میں گولی سے اڑایا گیا۔ پھر پولیس نے حسب روایت چاروں ہلاک افراد کو رات کے اندھیرے میں کہیں پر زمین برد کردیا۔مقامی اخبارات کو سرکاری بیانات کے سوا چھاپنے کی اجازت نہیں اور نہ جائے وقوعہ سے اطلاعات حاصل کرنے کی۔ نعیمہ احمد مہجور کے مطابق کشمیر کی بدقسمتی ہے کہ ایک کروڑ آبادی کو علم ہے کہ ان سب کو گولی سے مار دیا جائے گا جس کے لیے روزانہ سکیورٹی فورسز کی مزید کمپنیاں کشمیر پہنچائی جا رہی ہیں مگر اب حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اب زندہ رہنے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ صرف لاش واپس دینے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔چودہ پندرہ سال کے بچوں کو بارود میں ہلاک کیا جاتا ہے اور والدین قبریں کھود کر بچوں کی لاشوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر لواحقین کو انسداد دہشت گردی کے قانون میں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔حیدر پورہ کے معرکے میں ہلاک کیے جانے والوں کے لواحقین بھی پریس کالونی کے سامنے رو رو کر مطالبہ کر رہے ہیں مگر دنیا اور دنیا کی حکومتوں تک یہ آوازیں نہیں پہنچتی ہے۔افسوس بھارت کی اس لبرل آبادی پر ہے جو سوشل میڈیا پر کشمیریوں سے ہمدردی جتانے کا ڈراما تو کرتی رہتی ہے لیکن جب آواز اٹھانے کی بات ہوتی ہیں تو بغلیں بجانے لگتی ہے۔یہی حال بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کا ہے جنہوں نے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں حالانکہ ایسے ہی حالات ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بھی شروع ہوگئے ہیں۔وقت قریب ہے کہ بھارت کی دوسری قوموں کو بھی یہی سب کچھ سہنا ہوگا مگر اس وقت شاید کشمیر میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچا ہوگا۔سن 1947 میں برصغیر کے بٹوارے کے دوران جب ہندو مسلم فسادات میں ہزاروں لوگ قتل ہو رہے تھے تو وادی واحد جگہ ہے جہاں ہزاروں ہندوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پناہ لے لی تھی۔ اس کی خبر ملتے ہی مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ صرف کشمیر ہی بچا ہے جہاں سے ایک امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ لیکن اسی کشمیر کو اب قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔