
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس کا فیصلہ سنا دیا
عدالت نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو درست قرار دے دیا، عدالت نے شوگر ملز مالکان کی انٹراکورٹ اپیلیں مسترد کردی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
سماعت شروع ہونے پر شوگرملز کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب دلائل میں کمیشن تشکیل میں بے ضابطگیوں پرکہا کہ کسی بھی معاملے پر سمری کابینہ ڈویڑن سے ہی بھیجی جاتی ہے، مخدوم علی خان کی جانب سے 1991 کے سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیا جس پرجواب میں اٹارنی جنرل نے جواب میں 2017 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس شعبے میں بحران پیدا ہوا اس سے متعلقہ وزارت انکوائری کی سمری بھیجتی ہے،ایسا تب ہوتا ہے جب تحقیقات کا فیصلہ متعلقہ وزارت نے کیا ہو،اس بار چینی اسکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ وزیراعظم کا تھا، وزیراعظم تحقیقات کے احکامات جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، یہ اعتراض درست نہیں کہ پہلے کوئی سمری بھیجی جانا ہی ضروری تھی، فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مخدوم علی خان کو بدھ تک قانونی نکات پر تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔