
مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندانہ کردار کے حامل سرکاری ملازم کو تنخواہ ادا نہیں ملے گی پولیس کا شعبہ سی آئی ڈی بھرتی ہونے والے نئے ملازمین کے خلاف تحقیقات کرے گا
سری نگر : بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندانہ کردار کے حامل کسی سرکاری ملازم کو تنخواہ ادا نہیں کرے گی ۔ اس سلسلے میں پولیس کا شعبہ سی آئی ڈی بھرتی ہونے والے تمام نئے ملازمین کے خلاف تحقیقات کرے گا،۔ سی آئی ڈی کی تصدیق کے بغیر کسی سرکاری ملازم کو تنخواہ جاری نہیں ہوگی تمام ملازمین کے سوشل میڈیا اکاونٹس ٹویٹر ، فیس بک ، انسٹاگرام وغیرہ کی نگرانی کی جائے گی ۔کے پی آئی کے مطابق جموں وکشمیر انتظامیہ نے جمعرات کو انتظامی سیکریٹریوں ، ڈویژنل کمشنروں ، ڈپٹی کمشنروں اور محکموں کے سربراہوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سی آئی ڈی کی تصدیق تک سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے کسی بھی نئے شخص کو تنخواہ یا الاونس کی ادائیگی یقینی نہ بنائیں۔جی اے ڈی کے کمشنر سکریٹری منوج کمار دوویدی کے جاری کردہ ایک سرکیولرمیںبتایا گیاہے کہ کچھ "مشکوک افراد کو سی آئی ڈی کی لازمی توثیق کے بغیر ، تنخواہوں اور دیگر الاونس کی ادائیگی کی گئی ہے۔متعلقہ افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کی نشاندہی کریں اور اس بات کی یقین دہانی کریں کہ ان کی تصدیق جلد سے جلد مکمل ہوجائے۔سرکیولر میں تمام انتظامی سکریٹریوں / ڈویڑنل کمشنر / ڈپٹی کمشنرز / تمام پی ایس یوز / کارپوریشنوں کے سربراہان اور منیجنگ ڈائریکٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی نشاندہی کریں اور تصدیق کریں کہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے کسی نئے ملازم کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے۔ سی آئی ڈی کے ذریعہ تصدیق تک تنخواہ واگذار نہ کی جائے ۔