جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر

سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور ادارے گزشتہ 13 ماہ سے یکے بعد دیگر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جموںوکشمیر کے سیاحت کے شعبے کو تقریبا گیارہ ارب 66 کروڑ روپے سے زائد کانقصان برداشت کرنا پڑ

سرینگر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموںوکشمیر میںگزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور فوجی محاصرے کے نفاذ کے بعد سے سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور 500سے کم سیاحوں نے جموںوکشمیر کا رخ کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ پابندیاں گزشتہ سال 3 اگست کو بھارت کی طرف سے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی سے قبل عائد کی گئی تھیں ۔ان آئینی دفعات کے تحت جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ قابض انتظامیہ نے اس وقت مقبوضہ علاقے کے دورے پر آئے ہوئے سیاحوں کو جموںوکشمیر میںاپنا قیام مختصر کرنے کیلئے کہاتھا جس سے کشمیریوں میں مودی کی فسطائی حکومت کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی ۔سیاحت کے شعبے کے نمائندوںنے میڈیا کو بتایا ہے کہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعدسے سیاحت کے شعبے کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اورلاکھوںافراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

کورونا وائر س کی عالمی وبا اور بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے بھی سیاحت کے شعبہ پربہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔گزشتہ سال 5 اگست سے اب تک تقریبا 3 لاکھ افراد اپنی ملازمتوںاور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں ۔ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور ادارے گزشتہ 13 ماہ سے یکے بعد دیگر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ بھاری نقصانات کے باوجودقابض حکام نے اس شعبے کے متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ سرکاری اعدادو شمارکے مطابق دفعہ 370کی منسوخی اور کورونا وائر س کی وبا کی وجہ سے جموںوکشمیر کے سیاحت کے شعبے کو تقریبا گیارہ ارب 66 کروڑ روپے سے زائد کانقصان برداشت کرنا پڑا ہے