پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور سوشل میڈیا صارفین کی حکومت پر تنقید

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظور کیے جانے کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84پیسے فی لیٹراضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 55روپے 98 پیسے مقرر ی گئی ہے۔

واضح رہے کہ عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 جون رات 12 بجے سے ہی ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

حکومت کی جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنا تھا کہ سوشل میڈیا پر حزب اختلاف کے سیاسی رہنماؤں سمیت صارفین کی بڑی تعداد نے حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ مافیاز کی حکومت اور مافیاز کے لیے قائم حکومت جیت گئی ہے اور پاکستانی عوام ہار گئے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بہت ہی معمولی فائدہ عوام کو پہنچایا گیا اور اس نیازی حکومت نے اب انھیں مہنگائی کے ایک اور طوفان میں جکڑ دیا ہے۔’

جبکہ صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ اگر وزیر اعظم عمران خان خود کو عوام کا منتخب کردہ سمجھتے ہیں تو وہ سامنے آئیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کی وضاحت دیں۔’

پاکستان انٹرنینمنٹ انڈسٹری کے معروف اداکار اور شو ہوسٹ فہد مصطفیٰ نے بھی اپنا ردعمل کچھ یوں دیا ‘وزیر اعظم عمران خان صاحب میں جانتا ہوں کہ ملک چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ جب آپ اپوزیشن میں تھے تو آپ ہمیں کہتے رہے کہ (یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے)۔ مجھے بتایئے کہ کیا میں نے آپ کو ووٹ ڈال کر درست فیصلہ کیا تھا؟’

جبکہ سیاسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘کل ٹی وی پر چلنے والا ٹکر کچھ یوں ہو گا: وزیر اعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا علم نہیں تھا۔’

جبکہ ایک ٹوئٹر صارف نے طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ عمران خان کی شاندار چال ہے، آپ انھیں پسند کریں یا نا پسند کریں لیکن وہ واحد شخص ہیں جو ہمیں بچا سکتے ہیں۔بیوقوف اسے کبھی نہیں سمجھیں گے کہ انھوں نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر کورونا کی وبا کے دوران امرا کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ پاکستان کے غریب عوام کے لیے کیا گیا ہے۔ ہمیں آپ سے پیار ہے عمران خان۔’

صحافی اور اینکر پرسن منصور علی خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ حکومت کو چاہیے تمام پٹرول پمپوں پہ بڑے بڑے سائین بورڈ لگوا دیں جس پہ لکھا ہو ‘گھبرانا نہیں ہے!’

حکومت کی جانب سے نئی قیمتوں کے اطلاق کا اعلان کرنا تھا کہ ملک کے بیشتر شہروں میں پیٹرول پپمس پر شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تاکہ وہ قیمت میں اضافے سے قبل سستا پیٹرول حاصل کر سکیں تاہم بعض صارفین نے اس صورتحال میں متعدد پیٹرول پپمس کی بندش اور چند نے وہاں لگی قطاروں پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ‘حکومت نے پیٹرول مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، حکومت کو اس پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔’

جبکہ ایک صارف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر کچھ ایسا ردعل دیا۔

حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیٹرولیم مصنوعات پر سخت ردعمل آنے کے بعد حکومت کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و توانائی عمر ایوب نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس قیمت میں اضافے پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ:

‘عالمی منڈی میں گذشتہ ایک ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی دو سے تین روپے گراوٹ آئی ہے اور اس صورتحال میں حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 31.58 روپے کا اضافہ بنتا تھا لیکن حکومت نے اس میں 25.58 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ جبکہ ڈیزل لی قیمت میں 24.31 روپے فی لیٹر اضافہ بنتا تھا لیکن حکومت نے اس میں 21.31 روپے اضافہ کیا۔’