
پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں کرکٹرز کی آمدنی کا تخمینہ جاری کردیا
ڈومیسٹک کرکٹرز رواں سال 32 لاکھ روپے سے زائد رقم کما سکیں گے جو 20-2019ء کی نسبت 83 فیصد زیادہ ہے
رواں سال سب سے کم درجہ کٹیگری میں شامل کھلاڑی ڈومیسٹک سیزن 21-2020ء میں مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے کی رقم کمائے گا جوکہ گذشتہ سال سب سے زیادہ کمائی کرنیوالے کھلاڑی کی آمدن سے 7 فیصد زیادہ ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020ءکےشیڈول کے باضابطہ اعلان کے بعد ان کھلاڑیوں کی کمائی کا واضح حساب لگایا جاسکتا ہے، یہ سیزن پاکستان کے سب سے بہترین کھلاڑیوں کو قومی ٹی 20 کپ، قائداعظم ٹرافی اور پاکستان کپ کے تمام یعنی 10، 10 میچوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کررہا ہے۔ اے پلس کيٹيگری ميں شام 10 کھلاڑی ايک سال تک ڈیڑھ لاکھ روپے رقم ماہوار معاوضہ وصول کریں گے۔اس کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کو محدود طرز کی کرکٹ یعنی قومی ٹی ٹونٹی کپ اور پاکستان کپ میں میچ فیس کی مد میں 40 ہزار روپے جب کہ قائداعظم ٹرافی میں فی کھلاڑی 60 ہزار روپے کی میچ فیس وصول کرے گا، اس طرح یہ کھلاڑی پورے سیزن میں مجموعی طور پر 32 لاکھ روپے کی رقم حاصل کرے گا۔ یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہوتا بلکہ اگر اس کٹیگری میں شامل کوئی کھلاڑی ان تینوں میں سے کسی بھی ایونٹ کے فائنل ميں رسائی حاصل کرنے ميں کامياب ہو جاتا ہے تو وہ اضافی ميچ فيس اور انعامی رقم کے ذریعے اپنی آمدن میں مزید اضافہ حاصل کرسکے گا۔دوسری طرف، ڈومیسٹک کرکٹ کی ڈی کٹیگری میں شامل کسی بھی کھلاڑی کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے مقرر ہے تاہم میچ فیس کی مد میں انہیں بھی اے کٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کے برابررقم دی جائے گی لہٰذا ڈی کیٹیگری میں شامل اگر کوئی کھلاڑی فرسٹ الیون کے تمام 32 میچز کھیلتا ہے تو وہ اس سیزن میں 18 لاکھ روپے وصول کرے گا۔ اسی طرح اگر اس کٹیگری میں شامل کھلاڑی کسی بھی ایونٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلیتا ہے تو اضافی میچ فیس اور انعامی رقم کی مد میں اس کی آمدن میں بھی مزید اضافہ ہوجائےگا۔ڈی کٹیگری میں شامل کھلاڑی کی یہ آمدن ڈومیسٹک سیزن 20-2019ء میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے کھلاڑی کی آمدن سے بھی 7 فيصد زيادہ ہے۔ گذشتہ سال، فرسٹ الیون میں شامل تمام کھلاڑیوں کو ماہانہ 50 ہزار روپے کی رقم دی گئی تھی۔ ان کھلاڑیوں کو محدود طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 40000 روپےاور طویل طرز کی کرکٹ کھیلنے پر میچ فیس کی مد میں 75000 روپے دیے گئے تھے۔
ڈائريکٹر ہائی پرفامنس نديم خان نے کہا کہ ڈوميسٹک کيلنڈر 21-2020ء کو حتمی شکل ديتے وقت ہم نے نہ صرف وائٹ بال کہ تينوں عالمی مقابلوں کو مد نظر رکھا بلکہ اس بات کا بھی خيال رکھا کہ اپنے معاہدوں کو بہتر بنايا جائے جس سے کھلاڑيوں کو معاشی فائدہ بھی حاصل ہو سکے اور وہ اپنی فٹنس اور فارم کے معيار کو بہتر بنا کر فرنچائز کرکٹ اور قومی ٹيم کے لیے مضبوط امیدوار بنیں۔نديم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو علم ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کا شمار دنيا ميں زيادہ معاوضہ کمانے والے کرکٹرز میں نہیں ہوتا لیکن ہماری کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ ان کے معاہدوں ميں بہتری لائی جائے تاکہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرسکيں۔ ندیم خان نے مزید کہا کہ پی سی بی اپنے فنڈز اور آمدن کرکٹ کے ذريعے ہی بناتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ اس آمدن کا ایک بڑا حصہ کرکٹرز اور کھیل ترقی پر استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہا مجھے يقين ہے کہ ڈوميسٹک کرکٹرز کا اس اضافے سے ہمت اور حوصلہ بڑھے گا اور وہ نہ صرف گزشتہ سال کے مقابلے ميں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کريں گے بلکہ ان میں مزید بہتر کنٹریکٹ کے حصول کا جذبہ بھی بڑھے گا۔