دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد لداخ کے عوام اپنی زمینوںاورجائیدادوںکے بارے میں خوف میںمبتلا

سرینگر ۔  بھارتی آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے ایک سال بعد بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر کے لداخ ریجن میں لوگوںنے گزشتہ سال 5اگست سے قبل کی مقبوضہ علاقے کی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی اراضی،جائیدادوں اور نوکریوں کے حقوق تحفظ پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لداخ ریجن میں نہ صرف حزب اختلاف کی جماعتوںبلکہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے کشمیریوں کی شناخت چھین لئے جانے اور بڑھتی ہوئی ناامیدی پر غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔سیاسی رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ آئندہ دنوںمیں لداخ خطے کے لوگوںکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپنی شناخت ، نوکریوں، اراضی اور ثقافت چھینے کے خوف سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھے گا ۔

لداخ میں بی جے پی کے سابق سربراہ چیرینگ ڈورجی جو اس خطے کے سینئر ساستدان ہیں نے بتایا کہ ہمیں اب سخت جدوجہد کرنی ہوگی ۔ عام آدمی پارٹی کے ترجمان رنچن نامیجال نے میڈیا کو بتایا کہ لداخ کی آبادی تقریبا 97 فیصد قبائلی ہے اور اس خطے کی پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ بھارتی حکومت کے نئے ڈومیسائل قانون سے لداخ کی شناخت بھی بڑی حد تک متاثرہو گی ۔ لداخ کے نوجوان سیاست دان سجاد حسین نے کہاکہ کارگل سمیت کشمیر کے عوام جموںوکشمیر کی 4اگست2019والی صورتحال پر بحالی چاہتے ہیں ۔