
صدر ٹرمپ کی بھارت اور چین کو ثالثی کی دوبارہ پیشکش
ماسکو میں دونوں ملکوں کے وزراء دفاع میں پہلا رابط‘دونوں ممالک سے قریبی تعلقات کی بنا پرروس جنگ بندی کروانے میں اہم ملک ہوسکتا ہے. اعلی سفارتی ذرائع بیجنگ امریکی ثالثی کی پیشکش ٹھکرا چکا ہے جبکہ بھارت نے بھی دلچسپی ظاہر نہیں کی ‘ بھارت اور چین توقعات سے بھی زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں.امریکی صدر کی صحافیوں سے گفتگو
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ہمالیہ کی سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان تنازع حل کرنے میں مدد کرنے پر امریکہ کو خوشی ہو گی صدرٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متنازع سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان صورت حال انتہائی کشیدہ ہے. انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین توقعات سے بھی زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ادھر برطانوی نشریاتی ادارے نے اعلی سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین امریکا تعلقات میں کشیدگی کے باعث واشنگٹن ثالثی کی پوزیشن میں نہیں البتہ روس کے بھارت اور چین دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں لہذاماسکو اس سلسلہ میں نہایت اہم کردار اداکرسکتا ہے.
اس سلسلہ میں گزشتہ روز روسی دارالحکومت ماسکو میں بھارت اور چین کے وزرائے دفاع کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے جو جون میں متنازع پہاڑی سرحد پر خونریز تصادم بھڑک اٹھنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر پہلا سیاسی رابطہ ہے بھارتی وزیردفاع کا اس معاملہ میں روس کا یہ دوسرا دورہ ہے. دوسری جانب امریکی سرکاری ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین اور نہ ہی بھارت اس تنازع کو اس مقام پر لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں یہ بات باقاعدہ جنگ تک پہنچ جائے ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اس تنازع کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ بات کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے میں کیا مدد کر سکتا ہے.انہوں نے کہا کہ ہم چین اور بھارت کو اس کشیدہ صورت حال سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں اگر ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں تو ہمیں اس میں شامل ہونے اور مدد کرنے میں خوشی ہو گی. ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں جس پرچین کہہ چکا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جبکہ بھارت نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا ادھر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر چین اور بھارت کے وزرائے دفاع نے ملاقات کی.چینی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے لیے موجودہ تناﺅ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے اور ”غلط فہمیوں“ کی وجہ سے زیادہ شدید محاذ آرائی سے بچنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایس سی او اجلاس کے موقعے پر چینی وزیر دفاع وی فینگی نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ ملنے کی درخواست کی تھی اور دونوں ممالک کے سفارت خانے اس پر کام کر رہے تھے.تاہم چینی سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ چین نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی لیکن بیجنگ مذاکرات کے ذریعے موجودہ تناﺅ کو ختم کرنے کی کوششوں سے انکار بھی نہیں کرتا یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب گذشتہ ہفتے اور پیر کو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لداخ کی متنازع سرحد پر ایک بار پھر تصادم کی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں بھارتی سپیشل فورس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع بھی شامل تھی.1962 میں سرحدی تنازعے پر جنگ لڑنے والی ان دو ایٹمی طاقتوں نے ایک دوسرے پر ہفتے کی شب اور پھر پیر کو لداخ کی متنازع سرحد عبور کرنے کا الزام لگایا تھا تبتی پارلیمنٹ کی جلاوطن رکن نامغیال ڈولکر لہگیاری نے بتایا تھا کہ تازہ جھڑپ میں بھارتی سپیشل فرنٹیئر فورس (ایس ایف ایف) کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا. اس سے قبل 15 جون کو دہائیوں بعد ہونی والی بدترین جھڑپ، جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، کے بعد دونوں ممالک نے لداخ کے اس خطے میں دسیوں ہزار اضافی فوجی تعینات کیے تھے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو ان تازہ ترین جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا.
اس سلسلہ میں گزشتہ روز روسی دارالحکومت ماسکو میں بھارت اور چین کے وزرائے دفاع کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے جو جون میں متنازع پہاڑی سرحد پر خونریز تصادم بھڑک اٹھنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر پہلا سیاسی رابطہ ہے بھارتی وزیردفاع کا اس معاملہ میں روس کا یہ دوسرا دورہ ہے. دوسری جانب امریکی سرکاری ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین اور نہ ہی بھارت اس تنازع کو اس مقام پر لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں یہ بات باقاعدہ جنگ تک پہنچ جائے ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اس تنازع کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ بات کر رہا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے میں کیا مدد کر سکتا ہے.انہوں نے کہا کہ ہم چین اور بھارت کو اس کشیدہ صورت حال سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں اگر ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں تو ہمیں اس میں شامل ہونے اور مدد کرنے میں خوشی ہو گی. ٹرمپ ماضی میں بھی دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر چکے ہیں جس پرچین کہہ چکا ہے کہ ثالثی کے لیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہے جبکہ بھارت نے بھی اس پیش کش پر گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا تھا ادھر ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر چین اور بھارت کے وزرائے دفاع نے ملاقات کی.چینی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ یہ ملاقات دونوں فریقوں کے لیے موجودہ تناﺅ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے اور ”غلط فہمیوں“ کی وجہ سے زیادہ شدید محاذ آرائی سے بچنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ ایس سی او اجلاس کے موقعے پر چینی وزیر دفاع وی فینگی نے اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ ملنے کی درخواست کی تھی اور دونوں ممالک کے سفارت خانے اس پر کام کر رہے تھے.تاہم چینی سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ چین نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی لیکن بیجنگ مذاکرات کے ذریعے موجودہ تناﺅ کو ختم کرنے کی کوششوں سے انکار بھی نہیں کرتا یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب گذشتہ ہفتے اور پیر کو دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لداخ کی متنازع سرحد پر ایک بار پھر تصادم کی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں بھارتی سپیشل فورس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع بھی شامل تھی.1962 میں سرحدی تنازعے پر جنگ لڑنے والی ان دو ایٹمی طاقتوں نے ایک دوسرے پر ہفتے کی شب اور پھر پیر کو لداخ کی متنازع سرحد عبور کرنے کا الزام لگایا تھا تبتی پارلیمنٹ کی جلاوطن رکن نامغیال ڈولکر لہگیاری نے بتایا تھا کہ تازہ جھڑپ میں بھارتی سپیشل فرنٹیئر فورس (ایس ایف ایف) کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا. اس سے قبل 15 جون کو دہائیوں بعد ہونی والی بدترین جھڑپ، جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، کے بعد دونوں ممالک نے لداخ کے اس خطے میں دسیوں ہزار اضافی فوجی تعینات کیے تھے دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو ان تازہ ترین جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا.