
ماورائے عدالت قتل اور جبری نظربندیاں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیرمیں روز کا معمول ہیں، عالمی برادری نوٹس لے، رپورٹ
سرینگر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںبھارتی فوجیوں کے ہاتھوں صرف تین دنوں میں 10 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کاقتل مقبوضہ علاقے میں فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک کا واضح ثبوت ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق مودی کی فسطائی حکومت نے ماورائے عدالت قتل ،جبری نظربندیاں اور دوران حراست گمشدگیوں جو کہ مقبوضہ علاقے میں روز کا معمول بن چکا ہے کے ذریعے کشمیریوں سے زندہ رہنے سمیت تمام حقوق چھین لئے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال دفعہ 0 37 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے میںانسانی حقوق کی پامالیوں میںتشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور بھارتی فوجی خواتین اور بچوںکو بھی نہیں بخش رہے اور انہیں بھی بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کشمیریوں کی جان ،عزت و وقار اور آزادی سب کچھ سفاک بھارتی فوجیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کورونا وائرس کے نام پر مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور الجزیرہ اور بی بی سی جیسے بین الاقوامی ذرائع ابلاگ کو جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سچ سامنے لانے پر ہراساں کررہا ہے۔
بھارت نے خاص طورپر گزشتہ سال جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اپنی رپورٹوں میں مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں پربھارتی مظالم کو بے نقاب کیا ہے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میںنہتے کشمیریوں پربھارت کے مظالم کا سخت نوٹس لے ۔