
تحریر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ پاکستان کا جھنڈا اتارنے کے بعد لکھی گی تحریر۔ جس میں خصوصا میرپور ڈویژن کے لوگوں سے مخاطب ہیں
تحریر راجہ فہیم کیانی
صدر تحریک کشمیر برطانیہ
پاکستان کا جھنڈا اتارنے کے بعد لکھی گی تحریر۔ جس میں خصوصا میرپور ڈویژن کے لوگوں سے مخاطب ہیں
ہم ڈوگرا کی ظالم ریاست کے خاتمے کو اپنی فتح سمجھتے ہیں ۔اور یہ نا سمجھ نیشنلسٹ اس ظالم ڈوگرا کی ریاست کے پچاری ہیں یہاں دلائل کام نہیں کرتے شاہد ان کے خوابوں میں ان کے آباواجداد آر کر ہی ان کو سمجھا سکتے ہیں۔ باقی ہمیں تو نسل در نسل یہ سبق ڈوگرا سے آزادی کا منتقل کیا گیا ہے۔ ان کو
جس ڈوگرا نے ڈیڑھ صدی ہم پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے وہ ہیرو لگتا ہے اور جہنوں نے آزادی کے لیے 1947 میں جدوجہد کی وہ ہمارے ہیرو ان کو انتشاری لگتے ہیں۔
جموں کے اقلیتی ڈوگرا نے انگریز کی بنائی ہوئی ریاست جموں و کشمیر سے پہلے 1819 میں میرپور پر قبضہ کیا اور ہمیں غلام بنایا۔ 1809 تک یہ خطہ گگھڑ سٹیٹ کا حصہ رہا ہے ۔ یہ مغل سلطنت کے قیام سے لے کر 1809 تک گھگڑ سٹیٹ کا حصہ رہا ماہ سواے شیر شاہ سوری کے 15 سال جب اس نے سارے حصے کو مغلوں سے واپس لیا تھا 1809 سے 1819 تک چیب راجپوت کی چیبال سٹیٹ کا حصہ رہا اور جموں کے ڈوگرا نے پھر میرپور پر فوج کشی کی اور 1819 میں قبضہ کرلیا۔ پھر ڈوگرا کی غلامی کی ہماری تاریخ شروع ہوتی جو سکھ راج کا نمائندہ تھا۔ میں باقی علاقوں کی تفصیل نہیں بتاوں گا بات لمبی ہو جاے گی اگر سبز خان اور ملی خان کا تذکرہ چھوڑ کر 1846 میں آپ کو لے جاتا ہوں ۔ جب سکھوں کو انگریزوں نے شکست دی ۔ لمبی تفصیل ہے ۔ اس وقت جموں کے ڈوگرا کے زیر قبضہ علاقے میرپور ڈویژن ، پونچھ ریاست , بلتستان اور لداخ(بدھسٹ ریاست) تھے۔۔گلگت اور کشمیر نہیں تھے۔ کشمیر جس کو سکھ حکومت خود کنڑول کرتی تھی لاہور سے ۔ مختصر کرتے ہوے اس کو جموں کے اقلیتی ہندو ڈوگرا کو انگریز نے چند قواعد و ضوابط کے تحت 75 لاکھ نانک شاہی لے کر ڈوگرا کو بیچ دیا تھا۔ اور گلگت کو شامل کرکے اس ریاست کا وجود عمل میں لایا۔ جموں کا ظالم ڈوگرا میر پور کے
لوگوں کو غلام اور اس خطہ کو فوجی قوت کے ذریعے حاصل کیا ہوا علاقہ تسلیم کرتا تھا۔ باقی کوئی حقوق نہیں تھے ہماری ساری گندم کو اٹھا کر لے جاتا تھا ۔ جب ریاست کا وجود 1846 میں ہوا۔ تب بھی میرپور ، پونچھ ، لداخ ، گلگت ،بلتستان کے لوگوں سے یہی سلوک اس نے روا رکھ ہم اس کے اس دوسرے تیسرے چوتھے کیا کسی درجے کے شہری نہیں تھے جس طرح جموں کے ہندو ڈوگرا شہری تھے اور ڈوگرا اپنے آپ کو مالک اور ہمیں غلام سمجھتے تھے لیکن جب ڈوگرا نے کشمیر کے لوگوں پر اس طرح ظلم روا کرنے لگا ٹیکسز کی صورت میں تو کشمیرکے لوگوں نے احتجاج شروع کیا لیکن آدھی صدی اسی طرح گزر گی لیکن کشمیر ویلی کے لوگوں کو پتا تھا ڈوگرا نے ہم کو 75 لاکھ نانک شاہی میں خریدا ہے لیکن انگیز نے ڈوگرا کے ریاست کے دوسرے حصوں پر اس طرح قواعد ضوابط نہیں بناے تھے کیونکہ ڈوگرا نے وہ علاقے (میرپور ، پونچھ ، لداخ اور بلتستان) خود فتح کیے تھے یہ کشمیر ویلی اور گلگت اس کو انگریز نے دی تھی اس لیے اس کو قواعد و ضوابط کو فالو کرنا پڑتا تھا۔اس لیے جب ٹیکسز کی شکل میں کشمیر ویلی پر ظلم کرتا تو اس پر کشمیری احتجاج کرتے اس بنیاد پر انگریز نے ڈوگرا کو تنبہی کی اور کئی ریونیو کمیشنز بٹھاے ۔ لیکن ڈوگرا نے ریاست کے دوسرے علاقوں (میرپور ، پونچھ ، لداخ اور بلتستان) پر ظلم مسلسل جاری رہا رکھا ۔
مختصرا یہ ہے ڈوگرا پوری ریاست میں جموں کے ہندو کو ریاست کے باشندے سمجھتا تھا باقی سب کو اپنا مفتوح علاقہ اور وہاں سے لوٹا ہوا مال ریاست کے حقیقی شہریوں ہندو ڈوگرا کو بانٹتا تھا۔
انگریز صرف ریاست جموں و کشمیر کے حصہ کشمیر ویلی کے لوگوں کے احتجاج کا نوٹس لیتا تھا کیونکہ وہ انگریز کی جورسڈیکشن میں آتے تھے۔ جب مہاراجہ کے خلاف آوازیں زور پکڑنے لگیں پوری ریاست میں تو انگریز نے مہاراجہ پر دباو ڈالا اگر تم صرف جموں کے ہندو ڈوگرا کو ریاست کے وارث اور شہری سمجھو گے تو باقی ریاست کے لوگوں کو باشندہ نہیں بلکہ غلام سمجھو گے تو زیادہ دیر تک اس بغاوت کو قابو نہیں پا سکتے ۔ اس لیے میرپور ڈویژن کے لوگوں سے کہتا ہوں 1819 سے لے کر 1927 تک صرف غلامی اور غلامی تھی کوئی قابل فخر بات نہیں تھی اس ڈوگرا کی ریاست میں ۔ 1927 میں ڈوگرا نے اپنے خلاف منظم بغاوت کو کم کرنے کے لیے آپ کو ریاست باشندہ سرٹیفیکٹ دے بھی دیا تو کون سے سونے کے پہاڑ آپ کو مل گے تھے ۔
پھر اس کے فورا بعد کشمیر ویلی میں 13 جولائی 1931 کا واقع پیش آیا ۔ ریاست باشندہ کے بعد ڈوگرا نے بھی اپنی پالیسی کو نرم کیا اس دوران کشمیر ویلی میں مسلم کانفرنس بن گی جو مسلم لیگ کے قریب ہوگی ۔
1939 میں اچانک شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس کو ختم کرکے نیشنل کانفرنس بنا ڈالی ۔ جس نے کشمیر ویلی کی اکثریت اپنے ساتھ ملا لی اور نہرو کی طرف جھکاو رکھا اور 1942 میں چوہدری غلام عباس نے مسلم کانفرنس کی تجدید کی اور میرپور ڈویژن اور پونچھ کے لوگوں نے ساتھ دیا۔
مختصرا جموں کا ہندو ڈوگرا ایک اقلیتی حکمران تھا مسلم اکثریتی ریاست میں جس میں تو بڑی جماعتیں مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس میدان عمل میں تھیں نیشنل کانفرنس کانگریس کی حمایتی تھی اور مسلم کانفرنس ، مسلم لیگ کی حمایتی تھی . لیکن دونوں ڈوگرا کے قبضے کے خلاف تھیں ۔ اسی لیے میرپور اور پونچھ کے لوگوں نے ڈوگرا کے خلاف بغاوت کا آغاز مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے 19 جولائی کو سری نگر میں الحاق پاکستان کی قرارداد سے شروع کردیا تھا اس کے بعد مسلح جدوجہد کی اور 13 اکتوبر کو راولاکوٹ فتح کیا اور سہنسہ بازار میں 12 اکتوبر کو بغاوت کا آغاز ہوا۔ 22 اکتوبر کو پشتون قبائل کی آنے سے پہلے کافی علاقے آزاد کروا لیے تھے۔ 22 اکتوبر کو پشتون قبائل براستہ مظفر آباد کشمیر ویلی کی طرف بڑھے۔ وہاں پر چند ناگوار واقعات بھی ہوے جب ان کا آمنا سامنا نیشنل کانفرنس کے حواریوں سے ہوا کیونکہ کانگریس کے حمایتی تھے۔ یاد رکھیں گلگت بلتستان کے لوگوں نے کس کی مدد کے بغیر آزادی حاصل کی اور انڈیا مسلسل چار دن تک جنگی جہازوں سے بمباری کرتا رہا تھا گلگت بلتستان نے یکم نومبر 1947 کو اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ خوش نصیب ہیں آزاد جموں و کشمیر کے لوگ ڈیڑھ صدی کی غلامی کے بعد 1947 میں آزادی ملی اور اب آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان اور اھل پاکستان کو مل کو مقبوضہ جموں و کشمیر
کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔