بھارت کے گزشتہ سال 5اگست کے اقدام سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو اہے ،فاروق عبد اللہ

سرینگر  بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ جموںوکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے بھارت نے اپنی قبر خود کھود لی ہے کیونکہ اس اقدام سے تنازعہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر مرکز نگاہ بن گیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ بھار ت کی طرف سے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد تنازعہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور بھارتی حکومت اب اس سے چھٹکارا پانے میں ناکام رہی ہے۔برسوں بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںتین بار مسئلہ کشمیر پر اجلاس ہوئے اورسلامتی کونسل میںاس بارے میں بحث جاری رہے گی ۔

ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے بارے میں امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے بیان کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی پوزیشن کو بحال اور ان پر ظلم و تشدد کاسلسلہ ختم کیاجانا چاہیے ۔

جوبائیڈن نہ کشمیریوںکو آزادی دینے پر بھی زوردیا ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اب چین جیسے دوسرے ممالک بھی دفعہ 370کی بحالی پر زوردے رہے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے رواں سال کے آغاز میں مقبوضہ وادی کشمیر کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفارتکاروں کو "کٹھ پتلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کشمیری کھانوں کا مزہ چکھنے اور ڈل جھیل کی سیر کرنے کیلئے کشمیر آئے تھے جس سے مقبوضہ علاقے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی ۔