طیب اردگان کے بعد ترکی کے تعلیمی اداروں میں بھی کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں

ترک تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند ہونے پر بھارت تشویش میں مبتلا ہو گیا

استنبول  ترک تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔جس کے بعد بھارت تشویش میں مبتلا ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ترک صدر طیب اردگان کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی گئی۔اور اب ترکی یونیورسٹیوں میں بھی کشمیر کی آزادی کے لیے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔بھارتی سیکیورٹی ایجنسیز کے مطابق پاک ترک درینہ دوستانہ تعلقات کی وجہ سے اب ترکی کی یونیورسٹی میں بھارت مخالف اور کشمیر کی آزادی کے لئے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ترکی گزشتہ برس ستمبر میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھا چکا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تقریبات ترکی میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہیں جب کہ پاکستان کے تعاون سے چلنے والی این جی اوز بھی ان تقریبات میں پیش پیش ہے۔گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت کے خاتمے کے بعد بھارت کے غیر قانونی اقدام کے بعد سے ترکی کی یونیورسٹی میں 30 سے زائد سمینار منعقد کئے جا چکے ہیں۔

ان میں سے کئی تقریبات میں پاکستان کی خصوصی شخصیات نے بھی شریک کی۔ان میں سے کئی سیمینارز میں آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود بھی شرکت کر چکے ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے، کوئی بھی مہذب معاشرہ اور حکومت انسانی حقوق کی پامالی کی اجازت نہیں دے سکتی۔مقبوضہ کشمیر کی وادی گزشتہ ایک سال سے انسانی جیل کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں. انہوں نے کہا کہ یو نائیٹڈ نیشنز کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کشمیریوں کا مسلمہ حق ہے جو انہیں ملنا چاہیے اور کشمیریوں کو دنیا کے تمام انسانوں کی طرح اپنی مرضی سے جینے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے کشمیر کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے جس پر پوری دنیا کو کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے.