لویا جرگہ نے طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی

افغانستان میں دونوں متحارب فریقین کے مابین امن مذاکرات شروع کرنے میں قیدیوں کی رہائی ایک اہم رکاوٹ تھی جسے دور کرنے کے لیے یہ جرگہ بلایا گیا تھا۔

لویا جرگہ نے طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے۔

کابل میں آج افغان عمائدین نے ایک قرار داد کی منظوری دے کر سنجیدہ جرائم کے الزام میں ملوث لگ بھگ 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی۔

ان جرائم میں متعدد افغانوں اور غیر ملکیوں کو حملوں میں ہلاک کرنے کے الزامات بھی شامل تھے۔

قیدیوں کی رہائی کی تجویز تین روزہ لویا جرگہ کے اختتام پر منظور کی گئی۔ متنازعہ معاملات پر فیصلہ کرنے کے لئے قبائلی عمائدین اور دیگر اہم عہدے دار یہ روایتی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ اس سال نومبر کے اواخر تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد ’5000 سے کم‘ کر دے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ تعداد 4000 سے کم ہوگی۔ امریکی فوجیوں کا انخلا بھی دوحہ میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرگہ کی رکن عطا طیب نے اعلان کیا کہ ‘افغان امن مذاکرات کے آغاز، خون خرابے کی روک تھام اور افغان عوام کی بھلائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جرگے نے 400 قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ہے۔ جیسا کہ طالبان نے مطالبہ کیا تھا۔’

افغانستان میں دونوں متحارب فریقین کے مابین امن مذاکرات شروع کرنے میں قیدیوں کی رہائی ایک اہم رکاوٹ تھی جسے دور کرنے کے لیے یہ جرگہ بلایا گیا تھا۔

افغان طالبان نے اس اجتماع کو غیرنمائندہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا لیکن مبصرین کے مطابق اس کے فیصلہ سے مطمئن ہوں گے۔

افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے جرگہ منعقد ہونے سے پہلے کہا تھا کہ اس جرگے کے بعد طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے بھی ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ رہائی کا فیصلہ ناپسندیدہ ہے لیکن ان کے بقول یہ اہم نتیجے تک پہنچنے میں مدد دے گا جس کی افغان اور افغانستان کے دوست طویل عرصے سے خواہش کر رہے ہیں۔

قیدیوں کی رہائی ایک مشکل مسئلہ تھا جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے تحت براہ راست بات چیت ممکن بنائے گا۔ افغان حکام طالبان کے 5000 قیدی رہا کرچکے ہیں لیکن آخری 400 کو رہا کرنے سے کترا رہے تھے۔

ان میں سے 44 ایسے تھے جو ’ہائی پروفائل‘ حملوں میں ملوث ہونے کے شک کی وجہ سے امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے قابل تشویش رہے۔ ان میں کابل انٹرکانٹیننٹل ہوٹل میں حملے میں ملوث پانچ شدت پسند بھی شامل ہیں جس میں 40 افراد بشمول 14 غیرملکی ہلاک ہوئے تھے۔

امید کی جا رہی ہے کہ آخری رکاوٹ کے دور ہونے کے بعد اب افغان حکومت اور طالبان سمیت سب افغانوں کے قومی مذاکراتی عمل کا آغاز جلد ہوسکے گا۔