انڈین سپریم کورٹ: انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت کی پابندی ٹیلی کام ضابطوں کی خلاف ورزی قرار

انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت کی پابندی ملک کے ٹیلی کام ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت کی پابندی ملک کے ٹیلی کام ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔

‏عدالت عظمیٰ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ کشیمر میں انٹرنیٹ پر لگائی گئی بابندیوں کا ایک ہفتے کے اندر جائزہ لے۔

بی بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ کو اظہار کی آزادی کے بنیادی حقوق کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت کی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

مزید پڑھیے

کشمیر کی صحافت صرف چھ کمپیوٹروں تک محدود

’19 ہفتوں بعد جامع مسجد میں آذان، آج ہماری عید ہے‘

’کشمیری یخ بستہ قید میں ہیں‘

‏عدالت نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، بینکوں اور دیگر بنیادی خدمات کے اداروں میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرے۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد انتطامیہ نے انٹرنیٹ اور لوگوں پر جو بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان کے احکامات عدالت کے سامنے پیش کرے۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ انتظامیہ ان احکامات کو شائع بھی کرے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ ان پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ کیوں کی گئی ہیں اور ان کا جواز کیا تھا۔

عدالت عظمی نے دفعہ 144 کے تحت مظاہروں اور جلسے جلوسوں پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس کا نفاذ جمہوری حقوق کو دبانے کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔

عوام کو حکومت کے خلاف اپنی رائے کا پر امن طریقے سے اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عوام کو حکومت سے اختلاف کے پر امن اظہار سے نہیں روکا جا سکتا۔

‏عدالت نے جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، بینکوں اور دیگر بنیادی خدمات کے اداروں میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال کرے
سپریم کورٹ کے تین ججوں کی ایک بنچ نے یہ فیصلہ کشمیر ٹائمز کی مدیر انورادھا بھسین اور کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد سمیت کئی دیگر افراد کی طرف سے کشمیر میں انٹرنیٹ اور دیگر پابندیوں کے خلاف عذرداری کی سماعت کے بعد دیا ہے۔

انورادھا بھسین کی وکیل ورندا گروور نے انٹرنیٹ کو اظہار کی آزادی کے بنیادی حقوق کا حصہ قرار دینے کے عدالت کے فیصلے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا کوئی اثر سیاسی قیدیوں پر بھی پڑے گا۔

اگست کے اوائل میں انڈیا کے زیر انتظام کشیمر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کوختم کر دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد پورے کشمیر میں غیر معمولی پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز پوری طرح بند کر دی گئیں اور ریاست کے تین سابق وزرا اعلیٰ سمیت ہزاروں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ انتظامیہ ان احکامات کو شائع بھی کرے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ ان پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ کیوں کی گئی ہیں اور ان کا جواز کیا تھا
ہر طرح کے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بیشتر سیاسی قیدی اب بھی قید میں ہیں۔ انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد ہے۔ کچھ ہفتے پہلے موبائل سروسز جزوی طور پر بحال ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے کشمیر کی زندگی پوری طرح درہم برہم ہے۔

انورادھا بصسین نے آج کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اربوں روپے کی تجارت تباہ ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کا زبردست نقصان ہوا ہے اور عام لوگوں کی زندگی مشکلوں میں محصور ہے۔ کشمیر میں زندگی کا ہر شعبہ پابندیوں سے متاثر ہوا ہے۔

انورادھا نے کہا کہ ’آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے سے کشمیر میں میڈیا پانچ مہینے سے بستر مرگ پر ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ کشمیر میں خبریں صرف حکومت کے قائم کردہ میڈیا سینٹر سے آ سکتی ہیں جو پوری طرح حکومت کی نگرانی میں ہے۔

’لوگ خوف اور ڈر کے سائے میں خبریں بھیجتے ہیں۔ انتظامیہ کی تنقید کرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔‘

‏’عدالت نے ابھی صرف انٹرنٹ پر بابندیوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا، تاخیر سے ملنے والا انضاف ، انصاف نہیں ہوتا ۔ انٹر نٹ بحال ہونے میں ابھی مزید تاخیر ہوگی’
انورادھا نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے کوئی بڑی راحت نہیں ملی ہے۔

‏وہ کہتی ہیں ہے کہ ’عدالت نے ابھی صرف انٹرنیٹ پر پابندیوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ تاخیر سے ملنے والا انضاف، انصاف نہیں ہوتا۔ انٹرنیٹ بحال ہونے میں ابھی مزید تاخیر ہوگی۔‘

کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت نے کشیمر کے عوام کے درد کو سمجھا ہے اور ان کے جمہوری حقوق کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔‘

پابندیوں کے بارے میں حکومت کی دلیل تھی کہ وہ جمہوری حقوق کی پاسداری کرتی ہے لیکن کشمیر میں سلامتی کی مشکل صورتحال کے پیشِ نظر اسے یہ پابندیاں عائد کرنی پڑیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اظہار کی آزادی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا تحفظ بھی مساوی طور پر اہم ہے۔‍