
عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لیے کشمیر میں مداخلت کرے عبدالصمد انقلابی جموں وکشمیر میںچھاپوں، گرفتاریوں، سرچ آپریشن، قتل وغیرت گری اور ظلم وجبر بدستور جاری ہے
سری نگر() اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لیے کشمیر میں مداخلت پر زور دیا ہے ۔ ایک بیان میں پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48ویں اجلاس سے اپنے خطاب میں مشیل بیچلیٹ نے بھارت بھر میں اس کالے قانون کے استعمال میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت بڑی تعداد میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر 27 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک لاکھوں لوگوں اور نوجوانوں کو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور جموں کشمیر میں مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کی طرف سے جموں کشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت و ریاست انتظامیہ کی غیر قانونی اقدامات کے بعد سے حریت پسند رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور ان میں سیاکثر و بیشتر لوگوں کے خلاف یہ کالے قوانین لاگو کئے گئے ہیں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ چھاپوں، گرفتاریوں، سرچ آپریشن، قتل وغیرت گری اور ظلم وجبر بدستور جاری ہے۔ چیئرمین نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے