تبدیلی کے لئے کثرتِ تعداد شرط نہیں ہے،پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد ترتیب و اہتمام راجہ بشیر عثمانی ، تبدیلی کے آغاز کے لیے کثرت تعداد شرط نہیں ہے، قوت کردار شرط ہے۔ ہر خرابی کی اصلاح ہو سکتی ہے اور ہر مشکل دور کی جاسکتی ہے اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب آپ اپنے معاشرے سے تین بنیادی باتوں کو دور کرسکیں۔ ایک ہے انفرادیت، دوسری ہے مادیت، اور تیسری ہے اخلاقی اضافیت۔

تبدیلی کے لئے کثرتِ تعداد شرط نہیں ہے،پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد
ترتیب و اہتمام
راجہ بشیر عثمانی
، تبدیلی کے آغاز کے لیے کثرت تعداد شرط نہیں ہے، قوت کردار شرط ہے۔ ہر خرابی کی اصلاح ہو سکتی ہے اور ہر مشکل دور کی جاسکتی ہے اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب آپ اپنے معاشرے سے تین بنیادی باتوں کو دور کرسکیں۔ ایک ہے انفرادیت، دوسری ہے مادیت، اور تیسری ہے اخلاقی اضافیت۔
پہلی کا تعلق اس چیز سے ہے کہ میں چاہے باپ ہوں یا ماں ہوں، یا بیٹا یا بھائی یا بہن میں ہی سب کچھ ہوں، یہ جسم میرا ہے،میرے مطالبات اور میری اصل بنیادی چیز ہیں۔ میرے مطالبات مانے جائیں، میرا حصہ مجھے ملے۔ یہ انفرادیت ہے جو ہمارے معاشرے میں نفوذ کرگئی ہے، اور یہ ضد ہے اسلام کی اجتماعیت کی۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہم نے محض مادی منفعت کو بنیاد بنا لیا ہے

ہمارا نظامِ تعلیم وہی رہا جو انگریز نے چھوڑا۔ اس کے نتیجے میں زندگی دو خانوں میں بٹ جاتی ہے، ایک خانہ ہے مذہب کا، ایک خانہ ہے دنیا کا اور ان دونوں کے درمیان توازن کو ہم کامیاب زندگی سمجھتے رہے ہیں۔ اسلام دعوت دیتا ہے توحید کی، گویا روزِ اول سے ہم توحید کے منافی تعلیم دیں گے تو کیا توحیدی امت پیدا ہوجائے گی؟ نہیں ہوسکتی۔ یوں سمجھیے روزِ اول سے جو بیوروکریسی یا نوکرشاہی ہمارے ورثے میں آئی اس میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی تھی جو اس ملک کے شہری بھی نہیں تھے۔ 1964 تک ساٹھ سے اوپر افراد وہ تھے جو برطانیہ کی شہریت رکھتے ہوئے ہمارے اہلکار تھے۔ ان میں سے بہت سے غیر مسلم تھے

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد عہدِ حاضر میں ہماری علمی اور دینی روایت کے وارث اور اہم اسکالر ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جو تاریخ کے ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اسلامی تحریکوں کی جدوجہد پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ آپ کا تعلق دلی جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب کے ایک معزز علمی خانوادے سے ہے۔ ایڈمرل (سابق) ضمیر احمد مرحوم، پروفیسر خورشید احمد، اور ممتاز طارق مرحوم کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کے سب سے بڑے بھائی ضمیر احمد نے سب سے پہلے کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کام کاآغاز کیا، اور اپنے بھائی خورشید احمد کو جمعیت میں متعارف کرایا۔ عملی زندگی میں پاکستان نیوی میں چلے گئے۔ یہ ایک معروف بات ہے کہ اگر آپ پروفیسر خورشید احمد کے بھائی نہ ہوتے تو پاک نیوی کے چیف ہوتے۔ آپ کے بھائی ممتاز طارق 20 مئی 1965 کو قاہرہ میں پی آئی اے کی پہلی پرواز کو پیش آنے والے حادثے میں فوت ہوگئے۔
آپ کے والد نذیر احمد قریشی مرحوم کا تعلق بنیادی طور پر جالندھر سے تھا، جو دہلی کے معروف تاجر، اعلی علمی، دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے دوست تھے۔ نذیر احمد صاحب مولانا مودودی کے بے تکلف رفقا میں سے تھے، جنھوں نے متعدد علمی اور قیمتی کتابیں مولانا مودودی کو تحفے میں دیں۔
ڈاکٹر انیس احمد 22 مارچ 1944 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک سندھ مدرس الاسلام سے، اور گریجویشن سندھ مسلم کالج سے کی۔ کراچی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ تب کراچی یونیورسٹی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا طوطی بولتا تھا۔ انیس احمد نے اسلامک اسٹڈیز سوسائٹی کی سرگرمیوں کو جامعہ میں اس قدر وسعت دی کہ وہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے مقابلے میں متحرک باڈی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ 1963 میں ایم اے پاس کیا اور یہیں شعبہ اسلامی تاریخ میں 1969 تک پڑھایا۔
1969 میں پنسلوانیا اسٹیٹ کی ٹمپل یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر امریکہ چلے گئے اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ وہاں کچھ عرصہ بعض جامعات میں بھی پڑھایا۔ آپ اس کے علاوہ ملائشیا میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ دعو اکیڈمی اسلام آباد کا تصور پیش کرنا اور اس کو عملی جامہ پہنانا آپ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ آپ اس اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں مختلف کلیات کے قیام میں آپ کا کلیدی کردار تھا۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوگئی، آپ نے ٹیم ورک کے ساتھ اس کو بہترین انداز میں چلا کر بھی دکھایا اور عالمی سطح پر لوہا منوایا۔ اسی کے ساتھ چین، وسطِ ایشیا، لاطینی امریکہ سمیت کئی ممالک کی کتابوں کے ترجمے کرواکر مختلف زبانوں میں ان کے متعلقہ لوگوں کی اجازت سے چھپوانا بھی آپ کی محنت، لگن اور کاوش کا نتیجہ تھا۔ آپ آج کل رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ہیں، اور صرف روایتی وائس چانسلر نہیں بلکہ آپ یونیورسٹی کے انتظامی معاملات سے لے کر طالب علموں تک سے رابطے میں رہتے ہیں۔ آپ طالب علموں کو اچھا پاکستانی اور مسلمان بنانے کے ویژن اور مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی ذہنی و فکری سطح کو بلند کرنے کے لیے بھی ہر وقت پرعزم اور عملی طور پر متحرک رہتے ہیں۔
آپ سے رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس انٹرویوکے توسط سے زمانہ طالب علمی کے دوست، ملنسار اور ہمیشہ محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ ملنے والے کے مشتاق سے بھی بیس سال کے بعد ملاقات خوشگواری میں اضافے کا باعث بنی، جو جناب ڈاکٹر انیس احمد کے پرسنل سیکریٹری رفاہ یونیورسٹی ہیں۔
محبت اور شفقت کے ساتھ استقبال کرنے، دھیمے لہجے اور خوب صورت زبان میں مدلل گفتگو کرنے والے ڈاکٹر انیس احمد سے گفتگو کا سلسلہ ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ بات چیت کا یہ دورانیہ بھی کم تھا اور بات بھی بہت ہوسکتی تھی، لیکن وقت کی کمی دامن گیر رہی۔ ڈاکٹر انیس احمد سے نظام تعلیم کی خرابیاں، ادب اور اسلامی ادب کی بحث، نظریاتی جدوجہد کا فقدان، اسبابِ قحط الرجال، مخلوط تعلیم کا جواز،موبائل، انٹرینٹ کی دنیا،کتاب اور کاغذ کی اہمیت، جدیدیت، ٹیکنالوجی، اسلامی تحریکات، سید مودودی کی تعلیمات کے دنیا پر اثرات، علمی و فکری بحران،انقلابی تحریکیں اور ان کی جدوجہد، مغربی اور اسلامی فکر کی آویزش، نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف مغرب کا غصہ، مغربی تہذیب کے زوال کے بعد عروج کس کا، مغرب سے تعلقات کی نوعیت، سیاست اور اس کی اخلاقیات، آج کا نوجوان، اسلامی تحریکوں کی انتخابی اور جمہوری عمل کے ذریعے تبدیلی کی خواہش، ریاست مدینہ کا عملی تصور، سماج اور اخلاقی مسائل،آج کا استاد اور آج کا شاگرد سمیت دیگر موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کے اقتباسات نذرِ قارئین ہیں۔