امت مسلمہ کے لئے اتحاد بین الامسالک وقت کی اہم ضرورت


سرینگر / انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے زیراہتمام کانہامہ ماگام بڈگام میں ایک دینی جلسہ بعنوان اتحاد امت منعقد ہوا ۔جس میں کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل کے سربراہ مولانا مفتی مدثر احمد قادری بطور مہمان خصوصی اور وادی کے دیگر دینی تنظیموں کے زعما ٕ اور ان سے وابستہ علما ٕ نے شرکت کی ۔اجلاس جو دن بھر جاری رہا , جس میں ,سربراہ کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مفتی مدثر احمد قادری، چیرمین اتحاد امت جموں کشمیر مولانا مشتاق احمد حقنواز، چیرمین انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل مفتی شریف الحق بخاری،مسلم ڈیموکریٹک لیگ کے سربراہ حکیم عبدالرشید، چیئرمین سادات گیلانیہ سید سلیم گیلانی، مسلم متحدہ محاذ جموں کشمیر کے چیئرمین مولانا پرے حسن افضل فردوسی، جنرل سیکرٹری مسلم یونٹی کونسل سید جاوید عباس رضوی مولانا غلام علی گلزار اور دیگر تنظیموں کے علمائے کرام نے اور ذمہ داراں نے شرکت کی۔

سربراہ کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے اپنے بیان میں کہا کہ اتحاد امت کے لئے جستجو اور اس کے قیام کے علاوہ امت مسلمہ کے لئے اتحاد بین الامسالک وقت کی اہم ضرورت قرار دیا”اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ سربراہ کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے اتحاد بین مسلمین اور مختلف مسالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ اگر ہمیں دینی سماجی اقتصادی معاشی جدوجہد کو اس کے حتمی انجام تک پہنچانا ہے تو ہمیں باہم شیر و شکر ہونا چاہۓ اور معمولی اور فروعی مساٸل پر بات کرتے ہوۓ ایک دوسرے کے خلاف انگلی اُٹھانے سے گریز کرنا چاہۓ ۔


بعدازاں اس موقع پر اپنے بیان میں امیر علی کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی آپ نے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت جسم میں جان بلکہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہر مسلمان عقیدہ ختمِ نبوت کو اپنے منشور کا یقینی حصہ بنائے۔ آپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عقیدہ ختمِ نبوت کے شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے
بیان میں امیر علی کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مدثر احمد قادری صاحب قبلہ نے اپنے بیان میں عقیدہ ختمِ نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے، اس اہم موضوع پر علماء امت کی خدمات بیان کیں۔ آپ نے فرمایا کہ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے

امیر اعلی کاروان ختم نبوت انٹرنیشنل مولانا مفتی مدثر احمد قادری نے کہا کہ معاشرےمیں ،وحدت قائم کرنےسےمتعلق ،انبیاءکرام (علیهم السلام)،خاص کرہمارے نبی حضرت محمدمصطفی(صلی الله علیہ وآلہ وسلم)کاکرداربےمثال ہے.مخصوصا مدنی زندگی میں ہر طرف اتحادو بھائی چارے کی فضامیں نظرآنےلگی،جس کےنتیجے میں اسلام دوسرے علاقوں میں پہنچ گیا. اسلام معاشرتی اور اجتماعی مسائل کوبہت زیاده ترجیح دیتا ہے اسلام مسلمانوں کوگوشہ نشینی اور رہبانیت کی اجازت نہیں دیتا . اسلام کانظام اجتماع ایک دوسرے سے مربوط رہنےکی تلقین کرتانظرآتا ہے. ایک دوسرے کاخیال رکھنا،دکھ درد بانٹنا یہی نظام اجتماعی کابنیادی فلسفہ ہے کہ جس نظام حیات اورآئین الہی کو،اجتماعی روابط کااتناخیال هو،وه بھلااختلاف وتفرقہ اورآپس کی نفرتو ں کی اجازت کیسے دے سکتا ہے