کشمیری عوام بھارت سے نالاں اور مایوس ہیں، بھارت سے منہ پھیر لیا ہے،مظفر شاہ جنر ل منوج مکند نارو کا جموںوکشمیر کے حالات معمول پر آنے کا دعوی صریحا جھوٹ ہے

سرینگر: عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ نے  بھارتی فوج کے سربراہ  جنر ل منوج مکند نارو  کا یہ دعوی  مسترد کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے  بھارتی فوجی سربراہ  کے بیان کو صریحا جھوٹ  قرار دیا۔ مغربی نشریاتی ادارے سے بات چیت میںمظفر شاہ نے  کہا کہ اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو، دو روز قبل ہی دن دہاڑے ایک کونسلر کو قتل کیوں کر دیا گیا، وہ کیا بات کر رہے ہیں، کشمیر کے تو حالات قطعی نارمل نہیں ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر میں دو روز قبل ہی ایک سیاسی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ بھارتی فوجی سربراہ کا یہ بیان تو کس حد تک صحیح ہے کہ اب پتھرا کم ہو گیا ہے، مظاہرے بھی بہت کم ہوتے ہیں؟ اس پر مظفر شاہ کا کہنا تھا،یہ اس لیے ہے کیونکہ کشمیری عوام بھارتی حکومت سے اس قدر نالاں اور مایوس ہو چکے ہیں کہ ا نہوںنے ان سے منہ پھیر لیا ہے اور اب انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ خاموشی سے سب دیکھ رہے ہیں، مقامی سیاست دانوں نے بھی ان سے خاموش رہنے کی اپیل کر رکھی ہے۔ مظفر شاہ کے مطابق یہ خاموشی بھارتی فوجی سربراہ کی کوششوں کے سبب نہیں ہے بلکہ یہ کشمیر کی نوجوان لیڈر شپ کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ کوئی ایسی چیز نہ ہونے پائے، جس سے بھارتی فوج کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں  شروع کر دے اور ان پر تشدد کیا جانے لگے۔ یاد رہے جمعرات کوبھارتی فوج کے سربراہ  جنر ل منوج مکند نارو نے سری نگر میں میڈیا سے بات چیت میں مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر آنے کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا  تھا کہ  مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کوا یک ساتھ نہیں ہٹا یا جا سکتا۔ سری نگر میں میڈیا سے بات چیت میںجنرل منوج مکند نارونے کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا عمل اب تک کامیاب رہا ہے تاہم اسے برقرار رکھنے کی پوری ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر میں اب حالات زندگی معمول پر آ گئے ہیں۔ سری نگر میں جمعرات کے روز صحافیوں سے بات جیت میں انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر میں حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور بہت بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا،ایک طویل عرصے بعد امن و سکون کا بول بالا ہے۔ مجھے سبھی کمانڈروں نے لائن آف کنٹرول سمیت دور دراز کے علاقوں کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔ ہم نارمل حالات کے تجزیے کے لیے جن معیارات کا استعمال کرتے ہیں ان سب میں بہتری آئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا، دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہو گئے ہیں۔ ماضی قریب میں شاید ہی پتھرا کا کوئی واقعہ ہوا ہو اور دھماکے بھی نہیں ہوئے۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ حالات معمول پر آتے جا رہے ہیں۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔تاہم ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر حالات اتنے ہی بہتر ہیں تو کیا مستقبل قریب میں کشمیر میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کا کوئی امکان ہے؟۔ اس پر انہوں نے کہا کہ فوج کی تعیناتی کا وقتا فوقتا جائزہ لیا جاتا ہے،اگر صورت حال نے اجازت دی تو ہم کچھ فوجیوں کو دوسری جگہ تعینات کرنے غور کریں گے۔ تاکہ فوجیوں کو بھی کچھ آرام مل سکے۔ لیکن ایک جگہ سے سب کو ایک ساتھ نہیں ہٹا یا جا سکتا۔