بچی کے اغواء کا کیس: سرفراز بگٹی کی گرفتاری کاحکم

بچی کے اغواء کا کیس: سرفراز بگٹی کی گرفتاری کاحکم

کوئٹہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بچی کے اغواء کے مقدمے میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت معطل کرکے گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے جبکہ سینیٹر سرفراز بگٹی پولیس کو چکمہ دے کر عدالت سے چلے گئے۔

کوئٹہ میں بچی کے اغواء میں معاونت سے متعلق کیس میں عدالت نے سابق وزیر داخلہ بلوچستان اور سینیٹر سرفراز بگٹی کو گرفتار کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔ ایڈیشنل سیشن کورٹ کے جج منیر آغا نے سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے جس وقت گرفتاری کا حکم دیا تو بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر سرفرار بگٹی کمرہ عدالت میں موجود تھے تاہم سرفراز بگٹی گرفتاری دیے بغیر ہی عدالت سے روانہ ہوگئے۔

سرفراز بگٹی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ کسی کے آپسی گھریلو جھگڑے میں سیاسی بنیادوں پر مجھے دھکیلا جارہا ہے، اپنی ضمانت کےلیے ہائی کورٹ سے رجوع کروں گا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سینیٹر سرفراز بگٹی کی گرفتاری کےلیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

کمسن بچی ماریہ کی نانی نے بچی کے والد کےخلاف اغواء اور سرفراز بگٹی پر معاونت کا مقدمہ درج کرایا تھا، فیملی کورٹ نے بچی کی والدہ کی وفات کے بعد نانی کو بچی حوالے کی تھی۔