دیپیکا پڈوکون کی شکل میں بالی وڈ کو سیاسی آواز مل گئی ہے؟

دیپیکا پڈوکون کی شکل میں بالی وڈ کو سیاسی آواز مل گئی ہے؟

منگل کی رات بالی وڈ کی ایک نامور سٹار اچانک دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی پہنچ گئیں جہاں اتوار کی رات ایک پرتشدد کارروائی میں طلباء اور اساتذہ کو بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔

یہ بالی وڈ سٹار دیپیکا پڈوکون تھیں جو سردیوں کی اس بھیگی شام کو طلباء کے اس گروہ کے ساتھ کھڑی تھیں جو یونیورسٹی پر حملے کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ مبینہ طور پر یہ حملہ ان طلباء نے کیا تھا جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلباء شاخ سے منسلک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے
آصف غفور کا دیپیکا کے حق میں پہلے ٹویٹ، پھر ڈیلیٹ

مسلم لڑکیوں کا آنچل بنا پرچم، کیا ہیں اس کے معنی؟

کیا انڈیا اپنے نوجوانوں کو مایوس کر رہا ہے؟

دیپیکا کے یونیورسٹی پہنچنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک ایسا ہنگامہ برپا ہو گیا جو فلموں کے دیوانے ملک انڈیا میں ایک بالی وڈ سٹار ہی برپا کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پڈوکون کے مداحوں، بالی وڈ کے کچھ ساتھیوں اور طلباء تنظیموں کے رہنماؤں نے ایک ایسی یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ان کی اس ’جرات مندانہ حمایت‘ کو بہت سراہا جو مسٹر مودی کے دائیں بازو کے حامیوں کی آنکھوں میں ایک عرصے سے کھٹک رہی ہے۔

حتیٰ کہ وہ لوگ جو عموماً بالی وڈ کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں، انہوں نے بھی اپنے اس عہد کا برملا اعلان کر دیا کہ وہ پڈوکون کی نئی فلم کو بار بار دیکھیں گے۔ اس فلم میں نہ صرف پڈوکون نے مرکزی کردار ادا کیا ہے بلکہ فلم کی پروڈیوسر بھی وہ خود ہیں۔

دوسری جانب مودی حکومت کے جانے پہچانے حامیوں نے یہ کہتے ہوئے اداکارہ کے لتے لیے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی نئی فلم کی تشہیر کے لیے کر رہی ہیں۔ ٹوئٹر پر وہ دونوں ہیش ٹیگ چلتے رہے، ایک وہ جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس فلم کا بائیکاٹ کریں اور دوسرا وہ جس میں فلم کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے کا کہا جا رہا ہے۔

پڈوکون کے یونیورسٹی جانے پر اتنی زیادہ لے دے کیوں ہو رہی ہے، اس بات کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک تین درجن فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والی دیپیکا پڈوکون دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فلمی صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی وہ بہت مقبول ہیں جہاں ٹوئٹر پر ان کے فالوورز کی تعداد دو کروڑ 60 لاکھ سے کم نہیں اور انسٹاگرام پر انہیں فالو کرنے والے اس سے بھی کہیں زیادہ، یعنی چار کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ 2016 میں مشہور میگزین فوربز نے انہیں دنیا کی سب سے مہنگی اداکارہ قرار دیا تھا۔ اور پھر اگلے ہی سال میگزین نے یہ بھی بتایا تھا کہ دیپیکا اور ان کے اداکار شوہر رنویر سنگھ کی مشترکہ آمدن دو کروڑ دس لاکھ ڈالر تھی۔

ہالی وڈ کی ایک فلم میں دیپیکا کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اداکار وِن ڈیزل نے برملا کہا تھا کہ ’یہ تو ہر کوئی بتا سکتا ہے کہ وہ کتنی خوبصورت ہیں، اور ہر کوئی یہ بھی بتا سکتا ہے کہ ڈائیلاگ کی ادائیگی میں ان کی ٹائمنگ کا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن وہ صرف ایک فلم سٹار نہیں، بلکہ وہ تو اداکاروں کی اداکارہ ہیں، ایک ایسی اداکارہ جنہوں نے خود کو اس فن کے لیے وقف کر دیا
گذشتہ کئی برسوں میں پڈوکون کی شہرت ایک ایسی اداکارہ کی ہو چکی ہے جو نہ صرف ایک حساس خاتون ہیں بلکہ سوچنے سمجھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ اپنے ذہنی دباؤ یا ڈیپریشن کے بارے میں کھل کر بات کر چکی ہیں اور اسی ماہ وہ ڈیووس میں ذہنی صحت کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے خطاب بھی کریں گی۔

وہ دائیں بازو کے حامیوں کی جانب سے اپنی سنہ 2017 میں ریلیز ہونے والی فلم پدماوت پر شدید تنقید بھی برداشت کر چکی ہیں۔ اس فلم میں مرکزی کردار پڈوکون اور ان کے شوہر رنویر سنگھ نے ادا کیے تھے۔ تب مظاہرین نے نہ صرف کئی سنیما گھروں پر توڑ پھوڑ کی تھی بلکہ دیپیکا پڈوکون کو دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ان کی ناک کاٹ دیں گے۔ یہ لوگ اس حوالے سے انڈیا کی ایک مشہور داستان کا حوالہ دے رہے تھے جس میں سزا کے طور پر ایک خاتون کی ناک کاٹ دی جاتی ہے۔

وہ تصویر جس میں پڈوکون یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں، وہ ایک بہت اثر انگیز تصویر ہے۔ بالی وڈ کے اداکاروں پر اکثر تنقید ہوتی ہے کہ وہ آواز نہیں اٹھاتے۔ اس سے قبل کئی حکومتیں، خاص طور پر ممبئی میں شِو سینا پارٹی کے لوگ کھلے عام ایسے فلمسازوں کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں جن کی فلمیں ان لوگوں کو پسند نہیں آتی تھیں۔

مشہور فلمساز و ہدایتکار مہیش بھٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’انڈیا میں فلسماز ایک بے بس جانور جیسا ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی فلم ریلیز کے قریب پہنچتی ہے۔ آپ اس وقت فلمساز کو بلیک میل کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔‘

مسٹر مودی خود بھی بڑے انہماک سے اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ بالی وڈ کے ساتھ بنا کر رکھیں اور وہ اپنے حامی اداکاروں اور ہدایتکاروں کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوا چکے ہیں۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دیپیکا پڈوکون کی یونیورسٹی جانے والی حرکت میں کوئی اشارہ ہے؟ کیا اس سے بالی وڈ کے صف اوّل کے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ بھی کھڑے ہو جائیں؟

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو دپیکا پڈوکون نے اس تحریک کی روح کو سمجھ لیا ہے۔ مودی حکومت کے خلاف طلباء کا احتجاج بہت بڑی بات ہے کیونکہ اس احتجاج میں معاشرے کے سوچ بچار کرنے والے لوگ یا سول سوسائٹی پیش پیش ہے، سیاسی جماعتیں نہیں۔

ماہرِعمرانیات شِو وشواناتھن کے بقول ’یہ تحریک نظریات سے آگے کی بات ہے، یہ یکجہتی دکھانے کی تحریک ہے۔ اس لحاظ سے یونیورسٹی میں ان (پڈوکون) کی موجودگی اہم چیز ہے۔‘

دیگر لوگ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایک ایسے ملک میں جو بالکل تقیسم ہو چکا ہے، جہاں مسٹر مودی کی ہندو قوم پرستانہ سیاست کے حامی ان لوگوں کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں جو ایک سکیولر انڈیا میں یقین رکھتے ہیں، وہاں ایسے لوگ پڈوکون کے یونیورسٹی جانے سے زیادہ متاثر نہیں ہوں گے جو کہتے ہیں کہ یہ سب جھگڑا ’بائیں بازو کے ان طلباء کا پیدا کردہ ہے جن کا کام ہی فساد پھیلانا ہے۔‘

اس حوالے سے ایک اور ماہرِعمرانیات، پروفیسر سنجے شریواستو کہتے ہیں کہ ’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ لوگ جو دیپیکا پر تنقید کر رہے ہیں ان کی فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ ہمارے کلچر میں لوگ ہمیشہ ایک ہی نظریے پر نہیں چلتے۔ یہ چیزیں بہت عارضی ہوتی ہیں۔ ہم لوگ انتہائی متضاد خیالات کے ساتھ رہنے کے اہل ہیں۔ اکثر اوقات ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہوتے ہیں جو ایک دہلیز پر کھڑا رہتا ہے، نہ کہ ایسے معاشرے میں جہاں اچھے برے اور دائیں اور بائیں کے درمیان لکیر بہت واضح ہوتی ہے۔ مثلاً اس ملک میں لوگ ایک مضبوط ریاست کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ حکومتی کنٹرول کی بجائے کھلی معیشت کے حمایت بھی کرتے ہیں۔‘

ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ دیپیکا بالی وڈ کی وہ پہلی بڑی شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے مسٹر مودی کی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس سے پہلے کئی اداکارائیں اور مشہور ڈائریکٹر بھی شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اس سے حوالے سے انڈیا کے ایک مشہور ڈائریکٹر انوراگ کیشپ نے کہا تھا کہ مسٹر مودی کی حکومت نے ’ملک کو دو قسم کے لوگوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک طرف محب وطن لوگ اور دوسری طرف قوم پرستی کے مخالفین۔‘

یونیورسٹی کے طلباء کو ملنے سے پہلے پڈوکون نے ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے انہیں ’دکھ‘ ہوتا ہے۔

’یہ دیکھ کر مجھے درد ہوتا ہے کیونکہ میں امید کرتی ہوں کہ یہ چیز معمول نہ بن جائے۔ یہ ایک خوفناک اور غمناک صورت حال ہے۔ ہمارے ملک کی بنیاد یہ نہیں تھی۔‘

فلموں کی تبصرہ نگار شھوبھرا گپتا کہتی ہیں کہ مشہور افراد کی سیاست کے بارے میں یہ کہنا بہت آسان ہے کہ وہ ایسا سستی شہرت کے لیے کرتے ہیں، لیکن پڈوکون کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ واقعی دکھ محسوس کرتی ہیں۔

’میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک نہایت اہم وقت ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کھل کر بات کرنے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے (طلباء کے ساتھ) کھڑے ہو کر بہت سی چیزوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔‘

کوئی نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا بالی وڈ کے دوسرے سٹار بھی اب لب کشائی کریں گے؟

اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دیپیکا پڈوکون کی یونیورسٹی جانے والی حرکت میں کوئی اشارہ ہے؟ کیا اس سے بالی وڈ کے صف اوّل کے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ بھی کھڑے ہو جائیں؟

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو دپیکا پڈوکون نے اس تحریک کی روح کو سمجھ لیا ہے۔ مودی حکومت کے خلاف طلباء کا احتجاج بہت بڑی بات ہے کیونکہ اس احتجاج میں معاشرے کے سوچ بچار کرنے والے لوگ یا سول سوسائٹی پیش پیش ہے، سیاسی جماعتیں نہیں۔

ماہرِعمرانیات شِو وشواناتھن کے بقول ’یہ تحریک نظریات سے آگے کی بات ہے، یہ یکجہتی دکھانے کی تحریک ہے۔ اس لحاظ سے یونیورسٹی میں ان (پڈوکون) کی موجودگی اہم چیز ہے۔‘

دیگر لوگ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایک ایسے ملک میں جو بالکل تقیسم ہو چکا ہے، جہاں مسٹر مودی کی ہندو قوم پرستانہ سیاست کے حامی ان لوگوں کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں جو ایک سکیولر انڈیا میں یقین رکھتے ہیں، وہاں ایسے لوگ پڈوکون کے یونیورسٹی جانے سے زیادہ متاثر نہیں ہوں گے جو کہتے ہیں کہ یہ سب جھگڑا ’بائیں بازو کے ان طلباء کا پیدا کردہ ہے جن کا کام ہی فساد پھیلانا ہے۔‘

اس حوالے سے ایک اور ماہرِعمرانیات، پروفیسر سنجے شریواستو کہتے ہیں کہ ’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ لوگ جو دیپیکا پر تنقید کر رہے ہیں ان کی فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ ہمارے کلچر میں لوگ ہمیشہ ایک ہی نظریے پر نہیں چلتے۔ یہ چیزیں بہت عارضی ہوتی ہیں۔ ہم لوگ انتہائی متضاد خیالات کے ساتھ رہنے کے اہل ہیں۔ اکثر اوقات ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہوتے ہیں جو ایک دہلیز پر کھڑا رہتا ہے، نہ کہ ایسے معاشرے میں جہاں اچھے برے اور دائیں اور بائیں کے درمیان لکیر بہت واضح ہوتی ہے۔ مثلاً اس ملک میں لوگ ایک مضبوط ریاست کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ حکومتی کنٹرول کی بجائے کھلی معیشت کے حمایت بھی کرتے ہیں۔‘

ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ دیپیکا بالی وڈ کی وہ پہلی بڑی شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے مسٹر مودی کی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس سے پہلے کئی اداکارائیں اور مشہور ڈائریکٹر بھی شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ اس سے حوالے سے انڈیا کے ایک مشہور ڈائریکٹر انوراگ کیشپ نے کہا تھا کہ مسٹر مودی کی حکومت نے ’ملک کو دو قسم کے لوگوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک طرف محب وطن لوگ اور دوسری طرف قوم پرستی کے مخالفین۔‘

یونیورسٹی کے طلباء کو ملنے سے پہلے پڈوکون نے ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے انہیں ’دکھ‘ ہوتا ہے۔

’یہ دیکھ کر مجھے درد ہوتا ہے کیونکہ میں امید کرتی ہوں کہ یہ چیز معمول نہ بن جائے۔ یہ ایک خوفناک اور غمناک صورت حال ہے۔ ہمارے ملک کی بنیاد یہ نہیں تھی۔‘

فلموں کی تبصرہ نگار شھوبھرا گپتا کہتی ہیں کہ مشہور افراد کی سیاست کے بارے میں یہ کہنا بہت آسان ہے کہ وہ ایسا سستی شہرت کے لیے کرتے ہیں، لیکن پڈوکون کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ واقعی دکھ محسوس کرتی ہیں۔

’میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک نہایت اہم وقت ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کھل کر بات کرنے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے (طلباء کے ساتھ) کھڑے ہو کر بہت سی چیزوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔‘

کوئی نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا بالی وڈ کے دوسرے سٹار بھی اب لب کشائی کریں گے؟

اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔