سنہ 2020 کا پہلا جزوی چاند گرہن آج شب پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا

سنہ 2020 کا پہلا جزوی چاند گرہن آج شب پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا

چند دن قبل دیکھے جانے والے سورج گرہن کے شاندار نظارے کے بعد اب چاند گرہن دیکھنے کو ملے گا۔

چاند گرہن کا یہ نظارہ پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا جہاں مقامی وقت کے مطابق چاند گرہن جمعے کی شب دس بج پر سات منٹ پر شروع ہو گا اور یہ چار گھنٹے اور چار منٹ تک جاری رہے گا۔

گرہن 11 جنوری کی صبح 2.12 پر ختم ہو گا۔ چاند گرہن کا نظارہ پاکستان اور انڈیا کے علاوہ دیگر ایشیائی ممالک، یورپ، افریقہ اور آسٹریلیا میں بھی دیکھا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’سپر بلڈ وولف‘ چاند گرہن

اپالو 11 کی 50ویں سالگرہ پر جزوی چاند گرہن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہائی کا آخری سورج گرہن

جزوی چاند گرہن شب 12 بج کر دس منٹ پر اپنے عروج پر ہو گا اور یہ وہ وقت ہو گا جب زمین کے پڑنے والے سائے کی بدولت 90 فیصد چاند کور ہونے کے باعث اس کی روشنی انتہائی مدہم پڑ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹNASA
آج رات ہونے والا گرہن ’سب شیڈو‘ یعنی جزوی گرہن ہو گا۔ یعنی زمین کا مرکزی سایہ چاند پر پڑے گا جس کی وجہ سے اس کی چمک دمک ماند پڑ جائے گی۔

سنہ 2020 کے دوارن سورج اور چاند گرہن کے مجموعی طور پر چھ واقعات پیش آئیں گے۔ اس میں دو سورج گرہن جبکہ چار چاند گرہن ہوں گے۔ آج ہونے والے چاند گرہن کے بعد اگلے چاند گرہن پانچ جون، پانچ جولائی اور 30 نومبر کو ہوں گے۔

اس کے علاوہ سنہ 2020 کا پہلا سورج گرہن 21 جون جبکہ دوسرا اور آخری سورج گرہن 14 دسمبر کو لگے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس 26 دسمبر کو لگنے والا سورج گرہن دنیا کے بیشتر ممالک میں دیکھا گیا تھا۔

چاند کو گرہن کب لگتا ہے؟
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
سورج کی گردش کے دوران، ہمارا سیارہ (زمین) چاند اور سورج کے درمیان اس طرح آ جاتا ہے کہ اس کے باعث زمین کے سائے کی وجہ سے چاند چھپ جاتا ہے۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہو پاتا ہے جب سورج، زمین اور چاند اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔

جب زمین چاند اور سورج کے درمیان اس وقت آتی ہے جب مکمل چاند نکلنے کا دن ہو تو اس کا سایہ چاند پر پڑتا ہے جس کے باعث چاند کی روشنی اندھیرے میں بدل جاتی ہے۔

اور ایسی صورتحال میں جب ہم زمین پر کھڑے ہو کر چاند کو دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں دھندلا اور کالا لگتا ہے اور اسی وجہ سے اسے چاند گرہن کہا جاتا ہے۔