
حق دوستی
جسٹس صاحبان کے کردار کے بارے میں لاکھ اختلاف کیا جائے مگر ان کی دوست شناسی اور احباب پروری ایک ایسی خوبی ہے جو ہر برائی کو چھپا لیتی ہے، یا یوں کہیے زیادہ نمایاں کر دیتی ہے۔ جب بھی کوئی شخص مسند انصاف پر براجمان ہو کر اپنی حیثیت کو نظر انداز کرتا ہے تو شیطان کا جانشین بن جاتا ہے اور خدا کی نیابت کا اعزاز اس کے گلے کا طوق بن جاتا ہے، ایک ایسا طوق جو قیامت تک اس کے جسم کا حصہ بنا رہتا ہے، جسٹس کوئی بھی ہو دوست بن جائے تو پھر اسی کا ہو رہتا ہے، یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں روز مرہ کا مشاہرہ ہے۔
سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے اعلی عدالتوں کو ہدایت جاری فرمائی تھیں کہ 2013-14 کے تمام مقدمات فوری طور پر نمٹا دیے جائیں، اس معاملے میں کوئی غفلت ناقابل برداشت ہوگی، کہتے ہیں اس حکم یا ہدایت کی کوئی حیثیت نہیں جس کی نگرانی نہ کی جائے اور تاخیر پر احتساب نہ کیا جائے۔ پاکستان میں جسٹس اور جج صاحبان صرف تنخواہ کے حصول کے لیے عدالت آتے ہیں اور مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں کیونکہ یہاں ایسا کوئی نظام ہی نہیں جو سائلین کو اذیت دینے اور عدلیہ کی ہدایت کو نظرانداز کرنے کے مرتکب ہونے والے کا احتساب کر سکے ، جج اور جسٹس صاحبان کی مرضی ہے کہ وہ کتنا وقت عدالت کو دیتے ہیں اور کتنا وقت چیمبر میں بیٹھ کر دوست و احباب کو دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ عدالت میں آکر کام کریں یا نہ کریں ان کی تنخواہ، مراعات اور سہولتیں شیر مادر کی طرح ان کا حق ہیں اور کوئی بھی ان کا یہ حق چھیننے کی جرات نہیں کرسکتا، کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ان کی غفلت اور کوتاہی پر جواب طلب کر سکے۔ بدنصیبی یہ بھی ہے کہ یہ رویہ اور یہ روش کسی ایک جج کی نہیں سبھی اس لت میں مبتلا ہیں۔
بہاول پور ہائی کورٹ میں ایک نئے جسٹس صاحب نے قدم رنجا فرمایا تو ان کے آنے سے قبل ہی ان کی نیک نامی اور فرض شناسی کی داستانیں بہاول پور پہنچ چکی تھیں ہر سائل کی خواہش تھی کہ ایک بار اس کا مقدمہ ان کی عدالت میں لگ جائے گویا مقدمے کا لگنا سماعت کو پر لگنے کے مترادف سمجھا جانے لگا تھا، ایک دن ہمارے ایک عزیز ہانپتے کانپتے آئے اور بغل گیر ہو کر کہنے لگے خدائے بزرگ و برتر نے میری بھی سن لی میرا مقدمہ جو 20برسوں سے عدالت میں لٹکا ہوا تھا اب اس کے ہاتھ پائوں سیدھے ہو جائیں گے کیونکہ میرا مقدمہ نئے جسٹس صاحب کی عدالت میں لگ گیا ہے وہ جونہی فائل پر نظر ڈالیں گے مخالف وکیل پر عدالت کا وقت ضائع کرنے پر جرمانہ عائد کر دیں گے اور فیصلہ سنا دیں گے، کیونکہ سول اور سیشن کورٹ عدم ثبوت کی بنیاد پر یہ مقدمہ خارج کر چکی ہیں اور اب ہائی کورٹ میں پیشی در پیشی کا ابلیسی کھیل کھیلا جارہا ہے، ہم نے جسٹس صاحب کی بہت تعریف سنی تھی کہنے والوں کا کہنا ہے کہ ثبوت کے بغیر مقدمے کی فائل دیکھ کر ان کا بلڈ پریشر اتنا ہائی ہو جاتا ہے کہ ان کا بس چلے تو پیروی کرنے والے وکیل کا لائسنس ہی منسوخ کر دیں پیشی کے دن وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گیا، اس کے وکیل کے منشی نے کہا مبارک ہو تمہارا نمبر آنے والا ہے، اللہ نے چاہا تو ہائی کورٹ میں آج تمہارا آخری دن ہو گا کیونکہ مخالف وکیل کے پاس حق ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں سول اور سیشن کورٹ نے بڑی تفصیل سے فیصلہ لکھا ہے، آج بھی وہی فیصلہ برقرار رہے گا، مگر وطن عزیز کے لوگوں کے نصیب میں خوش نصیبی نہیں۔
جسٹس صاحب صبح 9بجے عدالت میں آئے، سماعت کا آغاز کیا گیا، جلدی جلدی بہت سے کیس نمٹا دیے، مگر 11بجے موصوف اٹھ کر اپنے چیمبر میں تشریف لے گئے کیونکہ ان کا کوئی عزیز دوست ان کا انتظار کررہا تھا، کیا بتائیں ہمارے دوست پر کیا گزری مگر جسٹس صاحب نے اپنے فرض پر حق دوستی کو فوقیت دے کر ثابت کر دیا کہ جسٹس صاحبان بہت اچھے دوست ہوتے ہیں۔
دنیا میں کوئی ایسی عدالت نہیں جہاں جعل سازی پر مبنی مقدمات کی سماعت کی جاتی ہو، بھارت کی عدالت عظمی نے ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی مقدمہ کی سماعت سے قبل جج کا اولین فرض ہے کہ وہ تصدیق کرے کہ مقدمہ جعلی ہے یا درست ہے، اگر مقدمہ جعل سازی پر مبنی ہو تو مدعا علیہ کو نوٹس جاری نہیں کیا جاتا، کیونکہ عدالتی نوٹس ایک ایسا ذلت آمیز پروانہ ہوتا ہے، جو مطلوب کو معاشرے کی نظروں میں رسوا کر دیتا ہے، اگر مقدمہ جعل سازی پر مبنی ہوتا ہے تو مدعا علیہ کو نوٹس نہیں بھیجا جاتا اور مقدمہ خارج کر دیا جاتا ہے، کیونکہ بھارتی عدلیہ کو احساس ہے کہ اس کی اولین ذمے داری شہریوں کی عزت نفس کا تحفظ کرنا ہے، المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے نظام عدل میں ایسا کوئی میکانزم ہی نہیں جو شہریوں کی عزت نفس کا تحفظ کر سکے، پاکستان کی عدالت عظمی تو مسجدوں کو بھی گرانے کا حکم دے دیتی ہے، جبکہ بھارتی عدلیہ کا واضح حکم ہے کہ کسی تعمیر شدہ عمارت کو گرانے کے لیے اس کے متبادل جگہ زمین اور ملبے کے پیسے دیے جائیں، متبادل زمین اور ملبے کا پیسہ دیے بغیر کسی عمارت کو نہیں گرایا جاسکتا، وزیر اعظم عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ کہتے ہیں، مگر جب عدلیہ کسی مسجد کو گرانے کے احکامات جاری کرتی ہے، تو آنکھیں اور کان بھی بند کر لیتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسجد کو منہدم کرنے کے بجائے بنی گالا کی طرح اس مسجد کو گیولرائز کر دیا جاتا۔