زیر حراست صحافی سجاد احمد گل کو دو ہفتے کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا سجاد گل بھارت کی سلامتی اور خود مختاری کے لئے نقصان دہ ہے، پولیس رپورٹ

سری نگر() شمالی کشمیر کی ایک عدالت نے  زیر حراست صحافی سجاد احمد گل کو دو ہفتے کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے کی ویڈیو بنانے والے زیر حراست صحافی سجاد احمد گل کے خلاف پولیس نے عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے ۔ پولیس رپورٹ میں بانڈی پورہ ضلع  کی عدالت کو بتایا گیا ہے ۔ مذکورہ صحافی سجاد گل کے نام سے ایک ٹویٹر اکاونٹ چلاتا تھا اور وہ ہر وقت حکومت مخالف خبروں کی تلاش میں رہتا اور یہ کہ وہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان دوریاں پیدا کررہا تھا، لوگوں کو تشدد  پر اکساتا تھا چنانچے پولیس نے سجاد  گل کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 12/2021زیر دفعات 147,447,336,351 آئی پی سی کے تحت کیس درج کیا تھا۔ گزشتہ سال فوجی آپریشن کے دوران ایک مقامی نوجوان مار ا گیا تھا ۔ اس بارے میں بھی سجاد نے خبریں اپ لوڈ کی تھی پولیس نے اس معاملے میں بھی مذکورہ صحافی کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 79/2021کے تحت کیس درج کیا ہے۔ شالیمار سری نگر میں گزشتہ دنوں فوجی نکارروائی میںسلیم پرے مارا گیا ۔ سجاد گل نے سلیم پرے کے رشتے داروں کی طرف سے  مخالف نعرے بازی کی ویڈیو بھی ایک ویڈیوسوشل میڈیا سا یٹ پر اپ لوڈ  کی تھی ۔پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کی سرگرمیاں بھارت کی سلامتی اور خود مختاری کے لئے نقصان دہ ہے۔ مذکورہ شخص جموں وکشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے  میں براہ راست ملوث پایا گیا ہے۔ چنانچے صحافی کو غیر قانونی اور  بھارت  دشمن سرگرمیوں کی پاداش میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دریں اثناامریکا میں قائم صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) نے بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے کی ویڈیو بنانے والے زیر حراست صحافی کو رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔ سی پی جے نے کہا کہ ایک صحافی اور میڈیا کا طالب علم سجاد گل کی گرفتاری سے  شدید بے چینی ہے، جن کے بارے میں رپورٹس ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکام صحافی سجاد گل کو فوری طور پر رہا کریں اور ان کے صحافتی کام سے متعلق تفتیش واپس لی جائے۔