تبدیلی یا ڈھونگ، ایک کڑوا سچ؟

گزشتہ تین سالوں میں پاکستان سمیت آزادکشمیر میں مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کے باعث کم آمدنی والا طبقہ سینکڑوں مشکلات سے دوچار ، خودکشی کے واقعات میں 44فیصد اضافہ، جرائم کی شرخ جس میں منشیات فروشی کے کیسز سب سے زیادہ ہے ، اِن سب کے پیچھے مہنگائی باعث ہے ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان گزشتہ تین سالوں سے ایک ہی بات پر اٹکے ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ” آپ نے گھبرانہ نہیں ہے مہنگائی پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے صرف پاکستان اِس کا شکار نہیں ”دراصل پاکستان کی 22کروڑ عوام وزیر اعظم پاکستان کے اِس بیان سے اتفاق نہیں کرتی ہے جن ممالک میں مہنگائی ہے وہاں عوام کو اسپیشل ریلیف بھی دی گئی ہے ، اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں قدرے حال بہتر ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کسی بھی چیز کا چیک ان بیلنس نہیں ، ڈیزل پٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ جبکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں بھی اضافہ پاکستان کی تاریخ میں 71سالوں کے اندر پہلی مرتبہ پاکسان مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں بیوروکریٹ اور حکومتی اراکین مزے کررہے ہیں وار مزدور طبقہ کم سری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں ایک کلو آٹے کے خریدنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے ، تحریک انصاف گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کے اندر نہ تو مہنگائی پر کنٹرول کرسکی نہ کوئی اچھا اقدام کرسکی اور وہاں آزادکشمیر میں بھی یہی حال ہے جس کے باعث عوام اب پریشان ہے اور اب سڑکوں پر نکلنے کی تیاریاں کررہی ہے ، تحریک انصاف حکومت کے اندر مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ تحریک انصاف میں وہی وزیر شامل ہے جو سابقہ حکومتوں میں رہ کر بدنامی کا باعث بنے ۔اب اگر دیکھا جائے تو جس تبدیلی کا عمران خان کہہ رہے ہیں وہ تبدیلی زمین کھاگئی یا آسمان کسی کو کچھ پتا نہیں ، ہاں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے جو غریب طبقہ پہلے 2-3وقت کی روٹی کھاتا تھا اب اُس کیلئے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی بہت مشکل ہوکر رہ گیا ہے اور وقت کا تقاضایہ بتا رہا ہے کہ عنقریب یہ ناممکن ہوکر رہ جائے گا ، عمران خان کی اِس تبدیلی سے غریب آئے روز خودکشی کرنے پر مجبور ہیں ، گزشتہ 71سالوں میں پٹرول اتنا مہنگا کبھی نہیں ہوا جتنا ابھی ہے ،ڈالر کی ابھی قیمت 173روپے ہے جبکہ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسا کبھی نہیں ہوا، ڈالر کی قیمت 125روپے تک زیادہ سے زیادہ گیا وہ بھی سابقہ کچھ حکومتوں میں اِس سے زیادہ کبھی نہیں بڑا مگر عمران خان کی تبدیلی نے اِسے 173پر لاکھڑا کردیا ہے، چینی گزشتہ 71سالوں میں 50-60روپے فی کلو رہی لیکن یہ بھی تبدیلی کی نظر ہوگئی اور اب موجودہ قیمت 115روپے فی کلو ہے، اِسی طرح گھی کی قیمت بھی 30-35روپے فی کلو رہی لیکن یہ بھی تبدیلی کی نظر ہوگئی ہے اب موجودہ قیمت 120سے 170روپے ہوگئی ہے ، اِسی طرح سونے کی قیمت پرانے پاکستان میں 49ہزار تھی لیکن تبدیلی کی نظر ہونے کی وجہ سے موجودہ قیمت 1لاکھ 10ہزار ہوگئی ہے ، اِس کے علاوہ طبی ادویات کی قیمتوں میں بھی اتنا زیادہ اضافہ ہوگیا ہے کہ بیمار شخص ادویات لینے کی اسطاعت رکھتا ہی نہیں جس کی وجہ سے آئے روز اموات ہورہی ہے ، اب تبدیلی ہمارے سامنے ہے ، کیا کچھ ہم نے کھویا اور کیا پایا، مجموعی طور پر حاصل تو ہمیں کچھ نہیں ہوا، الٹا جو تھا وہ بھی گیا، اگر حال اِسی طرح رہا تو عنقریب پاکستان کے حالات بہت خطرناک حد تک خراب ہوسکتے ہیں اِس نئے پاکستان سے پرانا پاکستان ہی بہتر تھا، غریب دو وقت کی روزی روٹی تو کمالیتا تھا ، اب نئے پاکستان میں وہ بھی محال ہوکر رہ گیا ہے ۔