
قیامت بپا ہے قیامت بپا
اجالا جب ہوا رخصت شب کی افشاں کا
نسیم زندگی پیغام لائی صبح خنداں کا
اقبال کی تشبہات کا حسن کمال کا ہے۔ اس شعر میں وہ ستاروں کو محبوبہ شب کی پیشانی کی افشاں قرار دیتے ہیں کہ جب زندگی کی نیم مسکراتی ہوئی صبح کا پیغام لائی تو ستارے رخصت ہوگئے، اور صبح ہوگئی۔ لیکن یہ صبح خنداں یعنی مسکراتی ہوئی صبح ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ عموما تو صبح ہونا مشکل ہے کہ رات کو موبائل اور اس کی مختلف ایپس کے ہاتھوں جاگ جاگ کر دیر سے سونا ہوتا ہے۔ لہذا صبح دیر تک ہوتی ہے بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب سورج نصف دن گزار کر اپنا آدھا سفر مکمل کرچکا ہوتا ہے۔ لیکن اگر پھر بھی صبح ہوجائے اور صبح سویرے اٹھنا ہی پڑے تو ہر ایک کے ماتھے کی شکنیں بمشکل دور ہوتی ہیں۔ بچے الگ بیزار بیزار سے رہتے ہیں۔ لہذا صبح کی مسکراہٹ کے لیے رات صحیح وقت پر سونا لازم ہے۔ جس کے لیے ہر کوئی خود ہی سوچ کر اپنے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ ورنہ نیم زندگی زندوں کو صبح خنداں کا پیغام دیتی ہے تو سوئے گور (قبرستان) جا کر مردوں کو کچھ اور پیغام دیتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں پیغام صبح میں کہ
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا
ابھی آرام سے لیٹے رہو میں پھر بھی آئوں گی
سلادوں گی جہاں کو، خواب سے تم کو جگائوں گی
مطلب قیامت جب ساری دنیا ختم ہوجائے گی اور مردے جی اٹھیں گے۔ سو نیم صبح قیامت کی خبر بھی لے کے آئے گی۔
کیا قیامت ہے کہ قیامت قیامت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ اب بھلا ایسی قیامت سے کون اور کیسے متاثر ہوگا جس کے بارے میں شاعر کہتے ہیں
قیامت بپا ہے قیامت بپا
جواں ہوگئے وہ جواں ہوگئے
ویسے آج کل قیامت ڈھانے کا عمل جوانی سے مشروط نہیں رہا۔ ایک طرف مہنگائی روز نئی قیامت ڈھاتی ہے اور دوسری طرف میڈیا کی تباہی ہے۔ ڈراموں اور اشتہارات کے ذریعے خاندانوں کو بے راہ روی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ خبروں میں اس قدر افراط و تفریط ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اسلامی بنیاد میں جیسے ڈائنامائٹ لگایا جارہا ہے۔ تیسری طرف سوشل میڈیا ہے۔
قیامت ڈھانے کے لیے آج کا اہم ترین ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ سب ہی اس بارے میں جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر آنے والی بات اہم ہونے کے باوجود معتبر نہیں کہی جاسکتی لیکن اس کے باوجود اس کی بنیاد پر تعلقات قائم ہورہے ہیں۔ فیصلے کیے جارہے ہیں۔ آج سوشل میڈیا کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، لوگ اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر صرف کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ الیکٹرونک میڈیا کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا لوگوں کا پسندیدہ ہوتا جارہا ہے، جہاں وہ اپنی مرضی اور سہولت کے ساتھ جاتے ہیں اور اپنی مرضی کی چیز پر توجہ دیتے ہیں۔ اشتہارات بھی اس لحاظ سے وہاں آتے ہیں، کمپینیاں ڈیجیٹل میڈیا پر اپنی مصنوعات کی تشہیر کی طرف توجہ دے رہی ہیں۔ لہذا اس لحاظ سے خواتین بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
2016 میں پاکستان میں الیکٹرونک کرائم ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔ یہ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ اس کے ایک سیکشن 20 کے تحت ایف آئی اے کو آزادی رائے اور آزادی صحافت کے خلاف لامحدود اختیارات دے دیے گئے۔اس بل کے منظور ہونے کے بعد کہا گیا کہ اب پاکستانی سوشل میڈیا سہما سہما رہے گا۔ لیکن سہمے سہمے رہ کر بھی سوشل میڈیا کی قیامت ڈھانے کی ادا وہی رہی۔ اور یہاں سے گزرنے والے یہی کہتے رہے۔
بارہا ہم پہ قیامت گزری
بارہا ہم تیرے در سے گزرے
قیامت گزری سو گزری لیکن در سے گزرنا نہ چھوڑا۔ سو سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج لوگ اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزار رہے ہیں۔ اس کے کئی نتائج ابھر کر سامنے آرہے ہیں، فائدے بھی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ایک شخص اگر کوئی سوش رکھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے رکھنا چاہیے تو وہ یہاں اپنی فکر، سوچ اور نظریات کو آزادانہ بغیر کسی رقم کی ادائیگی کے پیش کرسکتا ہے۔ البتہ وہ سوچ کسی کی شخصی سے لے کر حکومتی سطح تک کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ دور بیٹھے لوگوں تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسروں کے نظریات آگاہی اور اپنے نظریات پیش کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بغیر کسی رکاوٹ اور سنسر کے یہ سب کچھ دوسروں تک پہنچنے سے بہت سی مشکلات سامنے آتی ہیں۔ اور کبھی کبھی یہ خطرناک ہوتا ہے، کبھی اس لحاظ سے بڑا اہم بھی ہوتا ہے کہ ملکوں اور حکومتوں کو ہر اور مختلف موضوعات پر عوامی رائے اور تبصرے براہ راست حاصل ہوجاتے ہیں۔ اس سے تجارتی ادارے بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کی معلومات اکٹھے کرنے کے لیے سب ہی پیش پیش رہتے ہیں۔ اس سے اپنے اپنے لحاظ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ادارے ہوں یا ممالک اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اس سے مدد لیتے ہیں۔
آج نوخیر اور نوعمر نسل اس کے گردان میں بری طرح پھنسی نظر آتی ہے۔ خدشات ہیں کہ کہیں ان کا مستقبل متاثر نہ ہو۔ لیکن ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، یہی نوجوان ان شا اللہ اس کے مثبت استعمال کے راستے وسیع کرنے کی طرف توجہ دیں گے۔ البتہ ان کی نیک محبت کی طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔ مولانا رومی نے کیا خوب کہا ہے کہ قدم مضبوط ہوں تو اس دنیا کے دروازے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭