مقبوضہ کشمیر میں مستقل رہائش کے لیے ہندووں کے رجسٹریشن کیمپ قائم رجسٹریشن 15 مئی2022 تک جاری رہے گی بازآبادکاری کمشنراشوک پنڈتا مستقل رہائش کی سند حاصل کرنے میں بہت کم دلچسپی دکھا ئی جارہی ہے ٹی وی رپورٹ

نئی دہلی ،سری نگر()  مقبوضہ کشمیر میں مستقل رہائش کے لیے نئی دہلی سمیت تمام بڑے شہروں میں  ہندووں کی رجسٹریشن کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کئے  محکمہ بحالیات کے کمشنر کے دفتر نے بھارت کی مختلف ریاستوں میں ڈومیسائل سند حاصل کرنے کے لئے کیمپ لگائے ہیں،  اعلان کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے فرار ہونے والے ہندو خاندان رجسٹریشن کروائیں  تاکہ انہیں جموں وکشمیر  میں مستقل رہائش کی سند( ڈومیسائل سرٹیفکیٹ) جاری کیا جائے  ۔ بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  جموں وکشمیر  میں مستقل رہائش کی سند حاصل کرنے میں بہت کم دلچسپی دکھا ئی جارہی ہے ۔راحت اور بازآبادکاری کمشنراشوک پنڈتا  کے مطابق  انتظامیہ کی پیشکش میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا ئی جارہی ہے ۔ کشمیر سے چلے جانے والے  ہندووں کو راحت اور بازآبادکاری کمشنرکے پاس خود کا اندراج کرانا تھا جس کے بعد انہیں  جموں وکشمیر  کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ  جاری  کیا جاتا ہے  ۔۔ تاہم اس معاملے کے تحت چند کنبے ہی سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے ڈومیسائل سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والے خواہشمندوںکے لیے سند حاصل کرنے کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔ اور اب آخری تاریخ  15 مئی2022 تک مقرر کی گئی ہے۔ راحت اور بازآبادکاری کمشنر کے دفتر نے بھارت   کی دیگر ریاستوں جہاں کم سے کم 50 کشمیری  ہندوکنبے قیام پذیر ہیں، وہاں کیمپ کا انعقاد کررہے ہیں۔ اور کشمیری  ہندووںمیں بیداری کے لئے اعلان بھی کئے جارہے ہیں۔اس کیمپ کا انعقاد دارلحکومت دہلی میں کیا گیا تھا۔ تاہم زیادہ لوگ سامنے نہیں آئے۔ایک آفیسر کے مطابق سنہ 1980 کے بعد کشمیری ہندو  وادی  سے چلے گئے تھے  اور دہلی میں اس وقت تقریبا 25000 غیر رجسٹرڈ کشمیری ہندو رہ رہے ہیں لیکن صرف 3000 مہاجرین ہی کیمپ میں سرٹیفکیٹ حاصل کرنے آئے اور 806 کا اندراج اسی وقت کیا گیا ہے۔ جبکہ دیگر کے دستاویز کی جانچ کی جارہی ہے۔انہوں کہا کہ امید کی جارہی تھی کثیر تعداد میں لوگ سامنے آئیں گے۔ اورجموں و کشمیر میں ملازمت حاصل کرنے میں دلچسپی دکھائیں گے۔ تاہم ابھی تک کچھ خاص رجحان نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ دہلی میں سن 1989سے قبل ایک اندازے کے مطابق تقریبا 25 ہزار غیر رجسٹرڈ کشمیری پنڈت خاندان آباد تھے لیکن ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اسکیم کے اعلان کے بعد ایک سال میں صرف تین ہزار لوگ درخواست فارم لینے آئے اور ان میں سے بھی صرف 806 کنبوں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ایک سرکاری اندازے کے مطابق بے گھر ہونے والے کنبوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہوگی۔ انتظامیہ کا خیال ہے کہ ان میں سے بیشتر کسی نہ کسی جگہ مستقل طورپر آباد ہوچکے ہیں اور یہ خاندان اب کشمیر واپس نہیں جانا چاہتے اوراگر وہ ڈومیسائل اسکیم کے تحت اپنے نام کا اندراج کرانا چاہتے ہیں تب بھی اس کا مقصد صرف ‘ڈومیسائل’ سرٹیفیکٹ حاصل کرنا ہے۔