
انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ہڑ تال کی جائے۔عبدالصمد انقلابی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پائمالی پر بھر پور احتجاج کیا جائے
سری نگر() اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کو مقبوضہ کشمیر میں ہڑ تال کرنے کی اپیل کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پائمالی پر جمعہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھر پور احتجاج کیا جائے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے جموں کشمیر کے لو گ بھارتی سفارت خانوں کے سامنے اپنا احتجاج درج کریں گے۔ ایک بیان میں اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور 10 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ یوں 10 دسمبر کا دن پوری دنیا میں انسانی حقوق کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا میں بسنے والے جموں کشمیر کے لوگ اقوام عالم میں انسانی حقوق کا دن جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے منایا جا رہا ہے حقوق کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی بنیاد مذہبی ثقافتی اور قانونی نظریات پر رکھی گئی یہ دن اقوام متحدہ سے انسانی حقوق کے اسی عالمی منشور کی منظوری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ اقوام عالم کے تمام ممالک نے اس پر دستخط کر کے عمل درآمد کی ضمانت بھی دی تھی۔ اس سال عالم دنیا میں بسنے والے جموں کشمیر کے لوگ اقوام عالم میں انسانی حقوق کا دن جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے دنیا کو آگاہ کرنے کے حوالے سے منایا جا رہاہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو ہر فرد، مرد ہو یا عورت، لڑکا ہویا لڑکی، بچہ ہو یابوڑھا سب کے ہوتے ہیں، صرف اس بنیاد پر کہ وہ انسان ہیں۔ انسانی حقوق کی حیثیت ہمہ گیر ہوتی ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ انسانی بنیادی حقوق کسی کی بخشش نہیں ہوتے بلکہ ہر انسان پیدا ہوتے ہی ان حقوق کا دعویدار بن جاتا ہے۔ ہم لوگ جب تک انسان ہیں یہ حقوق کھو نہیں سکتے انسانی حقوق کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی حقوق کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کی بنیاد مختلف مذہبی، ثقافتی، فلسفیانہ اور قانونی نظریات پر ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ اقوام عالم میں بہت سی قدیم دستاویزات اور بعد میں آنے والے مذاہب اور فلسفوں میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں، جنھیں انسانی حقوق کہا جاسکتا ہے۔ کسی قوم کے حقوق بنیادی طور پر تین چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں جان، مال اور مذہب ان کے علاوہ باقی حقوق ان کے تحت آجاتے ہیں۔ عالم دنیا میں دین اسلام نے تمام لوگوں اور شہریوں کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ شہری سے مراد کسی ملک یا ریاست میں رہنے والا ہر وہ شخص ہے جسے اس ملک میں رہائش کے حقوق قانونی طورپر حاصل ہوں۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ اگرچہ شہری کا لفظی مطلب شہر کا رہنے والا ہے لیکن اصطلاح میں شہری کسی ملک میں رہنے والے ہر شخص کو کہا جاتا ہے۔ چاہے وہ شہر میں رہتا ہو یا قصبے اور دیہات میں، یا خانہ بدوش ہو، یہ تمام شہری کہلاتے ہیں اس میں نہ رنگ اور نسل کا فرق ہے نہ مذہب اور عقیدہ کا، بلکہ ہر وہ شخص جو ایک ملک یا ریاست کی حدود میں رہتا ہو اور حکومت کے قوانین کو تسلیم کرتا ہو وہ اس ملک کا شہری ہے اگر وہ حکومت کی اجازت سے عارضی طور پر کسی دوسرے ملک میں چلا جائے تب بھی وہ اپنے ملک کا شہری ہے۔ یہ وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ جب یہ کہا جائے کہ دین اسلام نے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ لوگوں کو تو کہیں ذہن میں نہ آجائے کہ پھر دیہاتی لوگوں کے حقوق کا تذکرہ کیوں نہ ہوا۔ دین اسلام نے لفظ شہری کا مفہوم خوب واضح کر دیا گیا۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ دین اسلام نے ہر شہری کے ہر طرح کے حق کا مکمل تحفظ کیا ہے۔