ماورائے عدالت شہریوں کے قتل کے بعد محبوبہ مفتی کو سری نگر میں نظر بند کر دیا گیا ماورائے عدالت قتل کیے جانے والوں کی لاشیں لواحقین کو دی جائیں۔ محبوبہ مفتی

سری نگر() مقبوضہ جموں وکشمیرکی سابق وزیر اعلی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر محبوبہ مفتی کو سری نگر میں نظر بند کر دیا  گیا ہے ۔ محبوبہ مفتی سری نگر واقع اپنی رہائش گاہ پر ہیں۔ سری نگر میںمظاہرین کو حراست میں لیے جانے پر سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مذمت کی تھی۔کے پی آئی کے مطابق انہوں نے ٹویٹ  میں لکھا تھا کہ پولیس نے ان لواحقین کو ان کے لخت جگروں کی لاشوں کو ان کے سپرد کرنے کے بجائے انکو گرفتار کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا یہ عمل مکمل طور پر ظالمانہ اور غیر سنجیدہ ہے۔ لواحقین کو لاشیں فوری طور انکی سپرد کرنے چاہئے۔  دریں  اثنا بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی )نے بدھ کو منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں محبوبہ مفتی کے بھائی تصدق حسین مفتی کو پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا تھا۔ افسران نے کہا کہ تصدق حسین مفتی نے جمعرات کو یہاں معاملے کے جانچ افسران کے سامنے پیش ہونے اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے التزام کے تحت بیان درج کرانے کے لئے کہا گیا ہے۔بہ مفتی نے اپنے بھائی کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیے جانے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ ان کے خلاف سیاسی انتقام ہے۔ انہوںنے کہا کہ جب بھی میں کسی غلط کام کے خلاف آواز اٹھاتی ہوںتو میرے گھر والوں میں سے کسی کی طلب کر لیا جاتا ہے۔