
5اگست کشمیریوں کیلئے ایک سیاہ دن ہے ، فاروق رحمانی
مظفر آباد 04 اگست ( ) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی ، دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم اورجبری انضمام کے بھارت کے فیصلے کی مذمت کیلئے پورے جموں و کشمیر میں 5اگست 2021کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا ۔
محمد فاروق رحمانی نے مظفر آباد میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے تمام طبقوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے کل ہڑتال کی کال کو کامیاب بناکر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ،پاکستان اور دنیابھر میں مقیم کشمیریوںکو بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے بھارت کی قابض ہندتوا حکومت کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی گزشتہ دو برس سے صورتحال انتہائی سنگین ہے اور عالمی برادری پر بھارتی تسلط سے آزادی کی کشمیری عوام کی جدوجہد میں مدد پرزوردیاجارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ 2019میں
کشمیریوں کے لیے بدقسمتی سے دن کا آغاز کشمیر محاصرہ سے ہوا اور لوگوں پر بھارتی افواج کے جنگی جرائم کا آغاز معافی سے ہوا۔ فاروق رحمانی نے کہاکہ سیکولرملک ہونے کے دعویدار بھارت نے جموں و کشمیر میں انسانیت کا کوئی بھلا نہیں کیا تاہم اب مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں نام نہاد سیکولرازم کا لبادہ اتارنے کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیر کو ایک ہندو اکثریتی خطہ بنانے کیلئے ظالمانہ قوانین کے نفاذ میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جموںوکشمیر میں اپنے قوانین کے نفاذ کیلئے تمام مقامی قوانین کو تبدیل کر دیا ہے اور کشمیری ثقافت ، زبان ، آبادی سبھی ہندو بی جے پی حکومت کے شدید حملے کی زد میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے اور کشمیری مسلمان افسروں اور ملازمین کونوکریوں سے برطرف کردیاگیا ہے اور ان کی غیر کشمیری ہندوئوںکا تقرر کیاگیا ہے ۔ پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین نے کہاکہ بھارت نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت لاکھوں غیر کشمیریوںکو ریاست کی شہریت دینے کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنا چاہتا ہے جوکہ تاریخی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سب کچھ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی وک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین کے ذریعے کیاجارہا جن کے تحت حریت رہنمائوں ، سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں مقبوضہ جموںوکشمیر سے باہر جیلوں میںنظربند کردیاگیا ہے ۔ ان کالے قوانین کے تحت بھارتی فورسز کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ محمد فاروق رحمانی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوںکا جائزہ لینے کیلئے اپنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیمیں مقبوضہ جموںوکشمیر بھیجیں ۔KMS-06/Y