43 سالہ کشمیری کو11سال قید کے بعد بھارتی عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا بشیر احمد عرف اعجاز بابا گجرات جیل سے رہائی کے بعد سری نگر میں اپنے گھر پہنچ گئے بشیر احمد نے دوران قید تشدد کا سامنا گیا تعلیم مکمل کی، والد اور وکیل کا انتقال ہو گیا

احمد آباد، سری نگر() بھارتی ریاست گجرات کی ایک  عدالت نے 11سال سے قید43  سالہ کشمیری  بشیر احمد عرف اعجاز بابا کو بے گناہ قرار دے کر رہائی کا حکم دیا ہے بشیر احمد عرف اعجاز بابا  گجرات جیل سے رہائی کے  بعد سری نگر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون یو اے پی اے ایکٹ کے تحت11سال سے قیدتھے۔ احمد آباد سیشن کورٹ  کے ایڈیشنل سیشن جج ایس اے ناکم نے انسداد دہشت گردی فورس کے اس مقدمے کو مسترد کردیا کہ نذیر بابا حزب المجاہدین سے وابستہ تھا۔ جج نے کہا کہ کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ وہ الیکٹرانک گیجٹ کے ذریعے عسکری عناصر سے رابطے میں تھاعدالت نے کہا کہ  استغاثہ جذباتی دلیل پر انحصار کرتا ہے اور کسی شخص کو صرف انارکی کے خوف سے ہی قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ بشیر احمدکوسال2010 میں مسلم نوجوانوں کو تربیت کے لئے پاکستان بھیجنے اور بھارت میں عسکری سرگرمیوں کو پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔بشیر احمد عرف اعجاز بابا فروری 2010 میں احمدآباد کے گجرات کلیفٹ اور کرینیو فیشل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تربیت کیلئے سری نگر سے گجرات آیاتھا۔اس کو13 مارچ2010 کو آنند علاقہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کسی جاننے والے سے ملنے گیاتھا۔ دوران قید 2017 میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ دوران قید  انہوں نے  تین مضامین میں پوسٹ گریجویشن ڈگری  حاصل کی۔ گرفتار ہونے سے قبل وہ سرینگر میں ایک کمپیوٹر ٹیچنگ سنٹر چلانے کے علاوہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کی والدہ جن کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ ہر روز اپنے گھر کے دروازے پر اپنے بیٹے کی راہ دیکھا کرتی تھیں۔ میرا بیٹا یہیں سے گھر کے اندر داخل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ دعا کرتی تھیں جس حالت میں میرے بیٹے کو گرفتار کیا گیا اور اسی حالت میں مجھے واپس لوٹا دے۔بابا کے چھوٹے بھائی نذیر احمد کی زندگی بھی اپنے بھائی کے گرفتاری کے بعد کافی بدل گئی۔ بڑے بھائی کے جانے کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری ان پر آگئی۔والدین کی طبیعت ناساز رہنے لگی ۔ اور دو بہنوں کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر آگئی تھی۔ نذیر ایک دکان میں سیلز مین کے طور پر کام کرتے تھے۔ اور بھائی کی رہائی کے لئے مقدمہ لڑنے کے لیے پیسے جمع کر نے لگے ۔انہوں نے اپنی پشتینی جائیداد بھی فروخت کردیا ۔ والد کا انتقال کینسر کی وجہ سے ہو گیا۔ والدہ اور بھائی کا دعوی ہے کہ وہ جیل میں بشیر سے صرف ایک دو مرتبہ ہی مل پائے ۔ وہیں بشیر کا کہنا ہے کہ ان کو ہائی سیکورٹی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اور اسی لیے ان کی سماعت آن لائن ہی ہوا کرتی تھی۔ہائی سکیورٹی جیل میں انہیں  تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہابشیر گرفتاری سے ان کی رہائی تک کے سفر میں ہمیشہ ساتھ رہے ان کے وکیل جاوید احمد خان پٹھان کا انتقال بھی ان کی رہائی کے حکم سے تقریبا دس دن قبل ہوگیا۔بشیر کا کہنا ہے کہ وکیل  جب میرے والد غلام محمد بابا کی وفات کے وقت میرے گھر آئے ۔اور انہیں جب ہماری مالی حالت کا پتہ چلا تو اس کے بعد انہوں نے میرا کیس بنا کسی فیس کے لڑنے کا فیصلہ کیا ۔۔افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ میری رہائی نہیں دیکھ پائے۔ عدالت کا فیصلہ آنے سے دس دن قبل ہی ان کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔