
بھارتی حکومت کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے سے بھی مطمئن نہیں ہے،محبوبہ مفتی مجھے یہ فکر ہے کہ آخر یہ لوگ جموں و کشمیر میں کیا کرنا چاہتے ہیں کشمیریوں کو کیوں کر دبایا جا رہا ہے
سری نگر : مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ پندرہ سالہ کشمیری لڑکے کے خلاف یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنا ادارہ جاتی ظلم کی ایک اور مثال ہے ۔ایک ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ شمالی ضلع کپوارہ میں ایک پندرہ سالہ لڑکے پر ایک جلوس جنازہ میں ، بھارت مخالف نعرے لگانے پر ،یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ۔ موجودہ حکومت کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے سے بھی مطمئن نہیں ہوئی، اب یہ کمسن لڑکوں کے پیچھے لگ گئی ہے ۔ کیا ملک میں کسی کو پرواہ ہے ؟۔دریں اثنا محبوبہ مفتی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ پندرہ سالہ بچوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمے کا اندراج افسوس ناک ہے ،مجھے یہ فکر ہے کہ آخر یہ لوگ جموں و کشمیر میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں کے بچوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ شوپیاں میں پندرہ سال کی عمر کے تین بچوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد ایک پندرہ سالہ بچے کے خلاف یو اے پی اے لگایا گیا۔ کل پلوامہ میں چند لڑکیوں کو پی ایس اے کے تحت بند کیا گیا ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو کیوں کر دبایا جا رہا ہے۔سابق وزیر اعلی نے سالانہ امرناتھ یاترا کے انعقاد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا،کیا وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی سنتے ہیں؟ اگر وہ ہماری سنتے تو پندرہ سالہ بچوں کے خلاف یو اے پی اے نہیں لگاتے ۔ان کا مزید کہنا تھا،انہیں جو کرنا ہوتا ہے وہ کرتے ہیں۔ وہ اگر یاترا منعقد کرانا چاہتے ہیں تو وہ کرا سکتے ہیں۔