
بھارتی فوج سمجھتی ہے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی عمل درکار ہے، پروفیسررادھا کمار مجھے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ میں کہوں کہ بھارتی حکومت امن عمل کے لیے کوئی تیاری کر رہی ہے بھارتی حکومت نے جنگ بندی کو بھی عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا۔بھارتی حکومت کی سابق مذاکرات کار
نئی دہلی : جموں وکشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کی سابق مذاکرات کار پروفیسررادھا کمار نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کو واپس لانے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اس پر پوری سابقہ ریاست کے لیے اتفاق رائے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس سے بھارتی حکومت کو کچھ گنجائش ملے گی، لیکن میں کسی بھی طرح سے بی جے پی حکومت کو اس راستے کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھ رہی ہوں۔ بی بی سی سے بات چیت میں پروفیسررادھا کمار نے کہا کہ کشمیری فریق ابھی بھی اس بحث میں شامل نہیں ہے ۔وہ 2019 میں آئینی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس وقت حکومت کو مجبورا یہ کہنا پڑا تھا کہ وہ کشمیر کا ریاست کا درجہ اور وہاں انتخابات کی بحالی کرے گی۔وہ کہتی ہیں کہ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ کیا مودی سرکار کو آخر کار یہ احساس ہوا ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے ان کی سخت گیر تدبیریں کشمیریوں میں حریت پسندی کو فروغ دینے اور غصے کو سخت کرنے کا سبب بنی ہیں۔’، شاید یہ ہوا ہو، لیکن جب مودی انتظامیہ کی بات کریں تو اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔’پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ جب تک انڈیا کشمیر سے متعلق 2019 کے فیصلے کو واپس نہیں لیتا تب تک امن عمل آگے نہیں جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرض کرنا کہ پاکستان دوسرے معاملات پر بغیر کسی پیشرفت کے جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھے گا، ایک غیر حقیقی مفروضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ جنگ بندی کی حمایت سیاسی عمل سے ہو۔’تقریبا ہر آرمی چیف اور جموں و کشمیر کے تمام کمانڈروں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی عمل درکار ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہی واضح ہیں کہ فوج تشدد کو کم کر سکتی ہے یا اس پر قابو پا سکتی ہے لیکن اس کے بعد تو سیاستدانوں کو ایک حل تلاش کرنے کے لیے قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ بھارتی فوج اپنے نقطہ نظر کو دہرا رہی ہے۔’رادھا کمار کا خیال ہے کہ چند ہفتوں قبل پاکستان کی کوششوں کے بعد انڈیا کے مثبت ردعمل کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ انڈیا ابھی تک امن عمل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ حکومت نے جنگ بندی کو بھی عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔’جنگ بندی کا مقصد یہ ہے کہ اس کے بعد سیاسی کوششیں ہوں، ورنہ تو جنگ بندی قائم نہیں رہے گی۔ دنیا میں کہیں بھی سیاسی عمل کی غیر موجودگی میں جنگ بندی جاری نہیں رہی ہے۔ آپ اسرائیل و فلسطین کو دیکھ لیں، سوڈان اور آئرلینڈ کو دیکھ لیں۔’لیکن کیا کشمیر میں موجودہ صورتحال بنی رہے گی یا انڈیا پاکستان کے تعلقات بہتر ہوں گے؟ انڈین حکومت کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسررادھا کمار نے کہا کہ ‘مجھے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ میں کہوں کہ حکومت امن عمل کے لیے کوئی تیاری کر رہی ہے۔’وہ مزید کہتی ہیں کہ پاکستان کا مثبت جواب دینے کے لیے انڈیا کو راضی کیا گیا تھا۔ ‘لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کسی بڑے مسئلے پر بات چیت ہوگی۔ ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی اشارہ نظر نہیں آیا ہے کہ جنگ بندی مزید دیگر عمل کا باعث بنے گی۔ لیکن میں امید کرتی ہوں کہ وہ کوشش کریں گے، کیونکہ یہ کرنا ایک واضح عمل ہے۔’یاد رہے پروفیسررادھا کمار2010 میں جموں وکشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کی مذاکرات کار تھیں۔وہ کشمیر میں 2019 کی ‘غیر قانونی اور غیر آئینی’ تبدیلیوں کے خلاف انڈین سپریم کورٹ میں مدعی ہیں،