جنرل رانی ۔۔۔۔اور “زنانیوں کے کھیل” میں “مرد کا بچہ” !

عقیل احمد ترین

میں بطور صحافی اگر کبھی کبھار کسی کو سنتا ہوں یا پڑھتا ہوں تووہ برادرم حامد میر ہیں،اللہ رب العزت نے ان کو صحافت کے میدان میں عزتوں سے نوازا ہے ،ان کے پاس بے پناہ انفارمیشن ہوتی ہے وہ صحافت اور انٹیلی جنس کی دنیا کے” ہائبرڈ صحافی” ہیں،انکی معلومات کسی بھی میڈیا پرسن سے زیادہ ہوتی ہیں لہذا ان کی صحافت، رپورٹنگ اور انکشافات پر انگلی اٹھائی نہیں جاسکتی !
گزشتہ دنوں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں Bluntرپورٹس اور وی بلاگز بنانے والے اسد طور پر حملے کے سلسلے میں ایک احتجاجی مظاہرے میں کچھ ارشادات فرمائے، ان کا انداز عملاََ نفرت سے بھرا اور ملک کے ایک طاقتوار ادارے کی بعض شخصیات کے خلاف زہریلا تھا
،شاید ان کے غصے کی وجہ ان پر کراچی میں حملہ اور پھر گزشتہ ایک سال میں بعض صحافیوں پر حملے کی کلاسیفائیڈ انفارمیشن تھی جوشایدان کے نزدیک زیادہ معتبر اور مستند تھی اسی لیے وہ بعض بڑوں کے گھروں کی خبر نکال لانے کی دھمکی پہ اترے آئے اور ساتھ ہی پاکستان کے مقتدر حلقوں میں ماضی کے بیک وقت پسندیدہ و ناپسندیدہ کردار” جنرل رانی “کا ذکر بھی نکال لائے، اسد طور پر حملے کے حوالے سے صحافیوں کے نگران ادارے اور ریگولیٹر وزارت اطلاعات کے زریعے ایک اعلامیہ میں ISIنے اپنی پوزیشن کلیئر کی” کہ الزامات بغیر تحقیق کے لگائے گئے ،فوٹیج واضح ہے کیوں نہ ملزمان کو گرفتار کرکے معاملے کی اصل تہہ تک پہنچا جائے اور یہ کہ ایجنسی کا اس حملے سے دور دور کا تعلق نہیں”
اس وضاحت کے بعد مجھے میر صاحب پر کرا چی میں حملے کے پس پردہ کچھ حقائق یاد آگئے جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ حامد میر پر حملے کے پیچھے ”را” تھی ،جس نے ففتھ جنریشن وار فیئر کی ابتداء کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کو ایک دوسرے کے سامنے کامیابی سے لاکھڑا کیا تھا،سوال یہ ہے کہ اسد طورکا معاملہ بھی کہیں اسی طرزکا تو نہیں ؟
جس طاقتور شخص بارے میر صاحب نے انکشافات کئے ،میرا خیا ل ہے کہ ہمیں پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ ڈیڑھ سال قبل کے واقعہ کو اچانک ہی اسد طور کے واقعے کے موقع پر کیوں بریک کیا گیا؟یہ واقعہ گولی لگنے کا نہیں ،یقینی طور اس وقت آنتوں کے آپریشن کاتھا ،لہذا اس سرجری کی تاریخ کو ایک ناپسندیدہ رخ دینا بھی صحافتی اصولوں کیخلاف ہے،ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس غیر حقیقی واقعہ کو اسد طور سے جوڑنا کیوں ؟ حالانکہ اس سے قبل مزاحمتی صحافی مطیع اللہ جان ،ابصار عالم اور کئی دوسرے صحافی بھی اسلام آباد میں تشدد کا شکار ہوئے ؟
میرے نزدیک اگر تو حقیقت تک پہنچنا ہے تو دیکھنا ہوگا کہ آجکل خطے میں کس عالمی قوت کی پالیسی شفٹ ہورہی ہے؟ َاور اسکے پاکستان کے ساتھ اس وقت کس طرح کےمفادات ہیں ؟وہ کیا چاہتی ہے،گزشتہ دنوں سلامتی کے ایک اہم عہدیدار سے اس قوت نے کیا مطالبہ کیا؟اور ان ؟مطالبات و مفادات کی تکمیل میں آج کے دن تک رکاوٹ کون بنا ہوا؟کیا جس “جنرل رانی”کازکر خیر ہوا اور اسکو ایک طاقتور شخص کو گولی لگنے کی وجہ رپورٹ ہوئی یاایسا پروپیگنڈہ کیا گیا وہ بھی اس Big گیم میں شامل ہے؟
سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ اڑھائی سال سے صحافیوں پر بڑے بڑے کڑے وقت آئے ،Whatsappگروپس سے میڈیا کنٹرول ہوا، اس وقت یہ مضحکہ خیز الزام سامنے کیوں نہ آیا؟
اس ساری سٹوری کا NET SHELL یہ ہے کہ CPEC اور نئی افغان سٹریٹیجی پہ کہیں کسی بڑی طاقت کے سامنے پاکستان کا کوئی” مردکا بچہ” سٹینڈ لے رہا ہے ،لہذا اس مردکے بچے کو” زنا نیوں کے سکینڈل “میں پھنسا کر کوئی اپنے مقاصد پورے کرنا چارہا ہے ؟ہم سب جانتے ہیں کہ فسطائی طاقتوں نے ہمیشہ عورتوں کو استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے ،اور یہاں بھی کچھ ایسی ہیSMELLآرہی ہے ،میں بہت ساری باتیں کھل کر نہیں لکھ سکتا لیکن اس اسکینڈل کا براہ راست تعلق پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے کسی فیصلے اور CPECسے براہ راست جڑا ہے ،باقی سب سمجھ دار ہیں ۔