
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل مقبو ضہ جموںوکشمیرمیں جاری قتل عام رکوائے ، محمد احسن اونتو فوجی تلاشی کی کارروائیوں کے مقامات پر صحافیوںکو اپنے فرائض کی انجام دہی پر پابندی ہے
سری نگر : جموں و کشمیر میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس نے قوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی ہے کہ مقبو ضہ جموںوکشمیرمیں جاری قتل عام رکوایا جائے۔جموں و کشمیر میںانٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے ایک بیان میں72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 12 نوجوانوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس کی طرف سے جاری کردہ میڈیا ایڈوائزری کے تحت محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کے مقامات پر صحافیوںکو اپنے فرائض کی انجام دہی پر پابندی سے عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ جھڑپوں کے حوالے سے بھارتی فوج کے موقف پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔کے پی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ کسی کو معلوم نہیںکہ مذکورہ چار جھڑپوں میں کوئی عسکریت پسند موجود تھا یا عام شہریوں کو لا کران مقامات پرقتل کیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا سے لوگوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی ملتی ہے ، انسانی حقوق کی پامالیاں بے نقاب ہوجاتی ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت کے حوالے سے لوگوں اور علاقوں پر توجہ دی جاتی ہے اور اس مقصد کے حصول تک کوششیں جاری رکھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل پولیس کا حکمنامہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموںوکشمیر کے آئی جی پی پر زوردیا کی کہ وہ فوری طور پر اپنا حکمنامہ واپس لیں اور میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دیں۔محمد احسن انتو نے کہاکہ مذکورہ حکمنامے سے مستقبل میں عسکریت پسندوں کے مبینہ مقابلوں اور امن وامان کی صورتحال کے بارے میں سوالات کھڑے ہونگے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ، ریڈ کراس ، یورپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور نام نہاد جمہوری ممالک سے سوال کیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں جاری قتل وغارت پر کیوںخاموش ہیں ۔