حلقہ حویلی سیاسی اکھاڑہ سج گیا راجہ فیصل راٹھور مظبوط امیدوار بن گئے

اسلام آباد (راجہ بشیر عثمانی )حلقہ حویلی سیاسی تاریخ میں ہردور میں زیر بحث رہا ہے اس حلقہ کی اہمیت اس وقت بڑھ گی جب پہلی مرتبہ حلقہ حویلی سے تعلق رکھنے والے فرزند کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم منتخب ہوے راجہ ممتاز حسین راٹھور وہ واحد سیاسی لیڈر تھے جہنیں حویلی کی تمام برادریوں نے تعصبات سے بالاتر ہوکر ووٹ دیے اور وہ بھاری ووٹوں سے ممبر اسمبلی منتخب ہوے حویلی کہوٹہ کے تمام قباہل اور برادریاں راجہ ممتاز حسین راٹھور مرحوم کا دلی احترام کرتے ہیں چونکہ راجہ ممتاز حسین راٹھور نے کبھی قبیلے اور برادری کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ حویلی کے عوام کے مساہل کے حل کےلیے اور پسماندگی کو دور کرنے کےلیے اپنی ساری صلاحتیں اور تواناہیاں صرف کرتے رہے یہ بذات خود ایک بہت بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اس قدر دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے راجہ ممتاز حسین راٹھور وزارت عظمی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوے راجہ ممتازحسین راٹھور مرحوم حویلی کی تمام برادریوں کو لے کر چلتے رہے سب کے دکھ درد بانٹتے رہے سب کے اجتماعی مساہل کے حل کےلیے زندگی کے آخری سانس تک برسر پیکار رہے ان کی شخصیت کے اثرات آج بھی حویلی کی سیاست میں پوری طرح موجود ہیں ان کے فرزند ارجمند راجہ فیصل ممتاز راٹھور اپنے والد کے چھوڑے ہوے مشن کو لے کر چل رہے ہیں وہ تمام برادریوں اور قباہل کے لوگوں کو لے کر چل رہے ہیں پچھلی مرتبہ حلقہ کے عوام نے انہیں ممبر اسمبلی منتخب کیا اور گزشتہ حکومت میں وزیر رہے بحثیت وزیر راجہ فیصل راٹھور نے تمام تر تعصبات سے بالاتر رہتے ہوے حویلی کے عوام کے حقوق کی جنگ ہر محاذ پر لڑی اور حویلی میں متعدد میگا پراجیکٹس لانے میں کامیاب ہوےان کے دور کے ترقیاتی منصوبہ جات کو کوئ شخص بھی نظرانداز نہیں کرسکتا وہ اپنے باپ کے حقیقی جانشین کی حثیت سے حویلی کے عوام کی نماہندگی کا حق ادا کررہے ہیں اس مرتبہ حلقہ میں راجہ فیصل راٹھور کی پوزیشن بہت مستحکم ہے حویلی میں مختلف جماعتوں علاقوں اور برادریوں کےلوگ ہر روز راجہ فیصل راٹھور کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جس سے ان کی انتخابی پوزیشن دن بدن مضبوط ہوتی جارہی ہے لوگوں کے رجعان کو دیکھ کر یہی تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ راجہ فیصل راٹھور اپنی سیٹ نکالنے میں کامیاب ہوجاہیں گےآس وقت آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت میں چوہدری عزیز وزیر حکومت ہیں چوہدری عزیز نے گزشتہ انتخابات میں حلقہ حویلی میں بڑے بڑے پراجیکٹ لانے کے جو اعلانات کیے تھے ان پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا دوسری جانب چوہدری عزیز کے بارے میں جو منفی تاثر ابھر کے سامنے آیا ہے وہ یہ کہ چوہدری عزیز اپنے آپ کو صرف ایک گروہ کا وزیر اور نماہندہ ظاہر کررہے ہیں جس سے حویلی میں شدید ردعمل پایا جاتا ہےنہ تو وہ حویلی میں بڑے منصوبے دے سکے ہیں نہ ہی بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کے حصول کےلیے ملازمتیں فراہم کرسکے ہیں وزیر موصوف کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ان کا گراف بہت نیچے آچکا ہے آمدہ انتخابات میں ان کےلیے عوام کے پاس جاکر انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا اور ووٹ لینا مشکل نظرآتا ہےچوہدری عزیز کا اس مرتبہ امیج بہت بری طرح متاثر ہوا ہے وہ اس مرتبہ ایک گروہ کے وزیر بنے رہے اور اسی گروہ کی نماہندگی کرتے رہے ان سے ان کی برادری کے لوگ بھی ناراض ہیں دوسری بات جو ان کی بدنامی کا باعث بنی ہے وہ ان کے بیٹے نے ایک کینسٹرکشن کمپنی شروع کی تھی جس کی وجہ سے بھی وہ علاقے میں بہت بدنام ہوے ہیں وہ اپنی وزارت کے دوران کوئ نیا منصوبہ عوام کو نہیں دے سکے بلکہ پیپلزپارٹی دور کے منصوبوں پر ہی اپنی تختی لگاتے رہے ہیں راجہ فیصل راٹھور نوجوان اور دلیر لیڈر کی حثیت سے آزاد کشمیر بھر میں اپنا ایک مثبت مقام اور امیج رکھتے ہیں انہوں نے اپنے والد کے مشن کو جاری رکھا ہوا ہے اس مرتبہ حلقہ حویلی سے بہت بڑی تعداد میں مسلم لیگ ن سے مستعفی ہوکر لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہوے ہیں جس سے راجہ فیصل راٹھور کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی ہے بظاہر ان کےلیے کسی طرح کی مشکلات نظر نہیں آرہی ہیں آمدہ انتخابات میں راجہ فیصل راٹھور کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں دوسری جانب آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی طرف سے شیخ محمود ایڈووکیٹ جمشید کیانی عادل کیانی متوقع امیدوار ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے عامر نزیر چوہدری اور زاہد ہاشمی متوقع امیدوار ہیں تحریک انصاف کے زاہد ہاشمی کی بہت کمزور پوزیشن ہے وہ گزشتہ انتخابات میں صرف 380ووٹ لے سکے تھے البتہ اگر عامرنزیر چوہدری تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ زاہد ہاشمی سے زیادہ ووٹ لے لیں گے عامر نذیر چوہدری کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی چوہدری عزیز کو زیادہ نقصان پہنچے گا دوسری طرف طارق سعید نے ایک معاہدہ کے تحت گزشتہ الیکشن میں حصہ لیا تھا. معاہدہ یہ تھا کہ اس مرتبہ خواجہ طارق سعید الیکشن میں حصہ لیں گے اور اگلی مرتبہ راجہ فیصل راٹھور الیکشن لڑیں گے. لیکن اس مرتبہ خواجہ طارق سعید خود الیکشن میں حصہ لینے کے لیے پر تول رہے ہیں. اگر خواجہ طارق سعید الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو انکا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ جاے گا طارق سعید نے 2011 میں راجہ فیصل راٹھور کی سپورٹ کی اور چیرمین زکوات بنے ماضی میں کشمیری خاندان سے کیے گے ایک معاہدے کی پاسداری کرتے ہوے گزشتہ انتخابات میں سیٹنگ منسٹر راجہ فیصل راٹھور نےکشمیری خاندان کو الیکشن لڑایا اور راٹھور برادری سمیت فیصل راٹھور کا بھرپور ووٹ طارق سعید کو پڑا حالانکہ اس وقت راجہ فیصل راٹھور کی پوزیشن مضبوط تھی چونکہ وہ وزیر تھے وہ خود الیکشن لڑ سکتے تھے لیکن انہوں نے کشمیری خاندان سے کیےگے معاہدے کی پاسداری کی اور اس کی لاج رکھی اور طارق سعید کو امیدوار بنایا اس مرتبہ آنے والے انتخابات میں کشمیری خاندان راجہ فیصل راٹھور سے کیے گے معاہدے کا پابند ہے توقع یہی ہے کہ کشمیری خاندان آنے والے انتخابات میں راجہ فیصل راٹھور کی مکمل حمایت کرے گااس وقت فیلڈ میں فیصل راٹھور حلقہ حویلی سے سب سے مضبوط امیدوار ہیں