یورپی ارکان پارلیمنٹ کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے والے بھارت کے ترجمان نہ بنیں: حریت پسند رہنما

سرینگر 16 فروری : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کے دورے کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد تنازعہ کشمیر کے حوالے سے دنیا کو اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں یاد دلاناہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کے دورے کے اہتمام کا مقصد بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہابھارتی حکومت ماضی میں بھی اس طرح کے من پسند دورے کرا چکی ہے لیکن وہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یورپی یونین کے من پسند ارکان پارلیمنٹ کے دوروں کا مقصد” سب اچھا ہے“ کا غلط تاثرپیدا کرناہے جو جھوٹ کے سوا کچھ نہیں اور جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بین الاقوامی سطح پر کوئی پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ مہذب دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی حکومت نے کس بے دردی کے ساتھ لاکھوں کشمیر یوںکو کئی ماہ تک یرغمال بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ترجمان نے بھارتی ریاست کی سرپرستی میںغیر ملکیوں کے دوروں کو ایک فضول مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کو بھارتی حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں پر عمل کرنے کی بجائے علاقے میںسیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے خطے کا آزادانہ طور پر دورہ کرنا چاہئے۔ ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کا یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب کشمیریوں کی پوری سیاسی قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔
جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ کچھ یورپی ارکان پارلیمنٹ کا متنازعہ علاقے کا دورہ دنیا کی توہین ہے کیونکہ خود کو حقیقی جمہوریت پسند کہنے والے تفریحی دورے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے جن کی ان ارکان پارلیمنٹ کے ممالک نے حمایت کی تھی، منافی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جن افراد اور تنظیموں سے ملیں گے وہ قابض اور جارح بھارت نے منتخب کئے ہیں لہذا ان ملاقاتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ان ارکان پارلیمنٹ کی ساکھ پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔شبیر ڈار نے کہا کہ اس طرح کے دوروں کو مفید اور معتبر بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ مقامی لوگوں کی خواہشات اور امنگیں معلوم کریںاوران کٹھ پتلیوں کی باتوں میں نہ آئیں جن کو خطے میں دہشت گردی کا راج قائم کرنے والے بھارت نے منتخب کیا ہے۔
کشمیر تحریک خواتین کی چیئرپرسن زمرودہ حبیب نے کہا کہ لگتا ہے کہ محصورجنت نظیر خطے کے اس دورے کا اہتمام بھارتی حکومت نے اپنی ریاستی دہشت گردی کو چھپانے کے لئے کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگریہ لوگ حقائق معلوم کرنے کے لئے دورہ کرتے تو ہم ان کی تعریف کرتے۔ہمیں اب بھی امیدہے کہ وہ مصیبت زدہ کشمیری عوام تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ جموں وکشمیرکی وجہ سے پورے جنوب ایشیائی خطے کا امن ، خوشحالی اور ترقی خطرے میںہے اوریہ تنازعہ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل و غارت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سبب ہے۔
دریں اثناءجموں وکشمیر نیشنل فرنٹ کے وائس چیئرمین الطاف حسین وانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی ہڑتال کال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں اس طرح کے دورے ایک فضول مشق ہے جوبھارت کے سوا کسی کے لئے فائدہ مند نہیں اور وہ بین الاقوامی برادری کو بے وقوف بنانے کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ واقعی کشمیر کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں عام لوگوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بات کرنی چاہئے اور ان سیاسی رہنماوں سے ملنا چاہئے جن پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اور وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب علاقوں کا دورہ کرنے،بھارت کے من پسند لوگوں سے ملاقات کرنے اور جھیل ڈل میں دل کش تصاویر بنانے سے مقصدپورا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یورپی ارکان پارلیمنٹ کو بھارت کا ترجمان بننے سے باز آنا چاہئے جس نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کرکے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔
جموں وکشمیر لبرےشن فرنٹ نے بھارتی حکومت کی ایما پر یورپی پارلیمنٹ کے چند من پسند ارکان کے مجوزے دورے کے خلاف کشمیر عوام سے کل بروز بدھ مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔لبریشن فرنٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ بھارت اقوام عالم کی آنکھوں مےںدھول جھونکنے کے لئے اےسے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔بیان میںکہا گیاہے کہ کشمیری عوام اپنے احتجاج کے ذریعے بھارتی حکومت کی ایما پر کشمیر کے دورے پر آنے والے بھارت کے من پسند ارکان پر مشتمل یورپی پارلیمانی وفد سمےت اقوام عالم تک یہ پےغام پہنچانا چاہتے ہےں کہ ریاست جموںو کشمیر اےک متنازعہ علاقہ ہے جہاں کے عوام کو حق خود ارادیت کے استعمال کے ذریعے اپنے مستقبل کا فےصلہ کرناابھی باقی ہے۔