
مشیل بیچلیٹ کا مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار تشویش
جنیوا14ستمبر ( ) جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48ویں اجلاس میں عالمی ادارے کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ سخت گیر قوانین کا استعمال جن کا مقصد اختلاف رائے کو روکنا ہے انتہائی تشویشنا ک ہے ۔
مشیل بیچلیٹ نے اجلاس میں اپنے افتتاحی بیان میںمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے سیکڑوں شہری جیلوں میں قید ہیںاور بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آئوٹ جاری ہے۔انہوںنے مواصلاتی پابندیوں پر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان پابندیوںکے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، مزید کشیدگی اور عدم اطمینان بڑھ سکتا ہے ۔انہوںنے بھارت کی طر ف سے مقبوضہ علاقے میںغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیایکٹ کے استعمال اوربار بار مواصلاتی بندشوں کو تشویش ناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عوامی اجتماعات پرقدغن عائد ہے اور سینکڑوں افراد کواظہار رائے کی آزادی کے اپنے حق کے استعمال پر گرفتار کرلیا گیا ہے اور صحافیوں کو بڑھتے ہوئے دبائو کا سامنا ہے۔مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ "پورے بھارت میں غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام کے ایکٹ کا مسلسل استعمال پریشان کن ہے۔ ملک میں اس ایکٹ کے تحت جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ کیسز درج کئے گئے ہیں۔مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے میںکشمیریوںسے مشاورت اور اس عمل میں ان کی شمولیت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی حکومت نے5اگست2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو اور سخت پابندیاں نافذ کر دی تھیں اور حریت رہنمائوں اور کارکنوںکو گرفتار کر کے پورے مقبوضہ علاقے میں مواصلاتی بلیک آئوت نافذ کردیاگیا تھا۔