جماعت اسلامی ہند کا بھارت میں نفرت انگیز جرائم کے واقعات میں اضافے پراظہار تشویش

نئی دہلی 05 جولائی ( ) جماعت اسلامی ہند نے مودی کے زیر قیادت بھارت میں نفرت انگیز جرائم کے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان واقعات کے پیچھے فرقہ پرست قوتوںاور سماج دشمن عناصرکو سزادلائے۔
 جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسر محمد سلیم انجینئر نے نئی دہلی میں آن لائن پریس کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز جرائم ، گائو رکشاکے نام پر تشدد اور ہندو بھلوائیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس طرح کے جرائم میں ملوث مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ پروفیسرسلیم نے کہاکہ دلتوں اور اقلیتوں پر جاری مظالم سے معاشرے کے پسماندہ طبقوں میں احساس عدم تحفظ بڑھ گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان سے متعلق فوجداری مقدمات اور واقعات کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے اور معاشرے میں تفرقہ ڈالنے کے لئے نفرت اور انتشار پھیلانے والی قوتوں کی طرف سے استحصال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں اتر پردیش، پنجاب، ہماچل پردیش، گوا اور منی پور کے اسمبلی انتخابات نزدیک آتے ہی فرقہ وارنہ نفرت سے متعلق جرائم کے واقعات میںاضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر سلیم نے کہاکہ فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کے لئے ان مذموم سرگرمیوں میں ملوث افرادکے حوصلے بلند ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ وہ مزید جرائم کرنے کے لئے پر اعتماد ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیںکہ وہ قانون نافذ کرنے اداروں کی طرف سے کوئی سزا دیے بغیر نفرت انگیز اور پرتشدد کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے فرقہ وارانہ فسادات اور نفرت پھیلانے والے عناصر سے سختی سے نمٹنے کی اپیل کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی کارکنوں کو ملک میں نفرت کو روکنے کے لئے اپنی ذمہ داریاںپورا کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیاہے کہ شمال مشرقی دہلی میں فسادات کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد باہرکے لوگوں کی کارستانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اصل مجرموں کی شناخت کرکے ان کو سزا دینی چاہئے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ مجھے امید نہیں ہے کہ حکومت ہمارامطالبہ تسلیم کرے گی ۔