
سوشل میڈیا کو قانونی دائرے میں لانے کی تیاریاں
مذہب،ملکی وقار،اداروں اورسیاستدانوں کے خلاف مواد پر پابندی عائد کی جائےگی، مسودہ کابینہ کمیٹی کو ارسال: وزارت آئی ٹی
وزارت آئی ٹی کا کہنا تھا کہ اس سے آزادی رائے کو کسی بھی قدغن کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، مسودے کے متن کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد صارفین رکھنے والے سروس پروئیڈر اور سوشل میڈیا کمپنیاں رکھنے والے کو پی ٹی اے کے ساتھ الحاق کرنا ضروری ہو گا جبکہ پاکستان بالخصوص اسلام آباد میں سے الحاق ضروری ہو گا ، خلاف ورزی کرنے اور غیر اخلا قی مواد اپ لوڈ کرنے والے کے خلا ف پیکا ایکٹ 2016 کے تحت جرمانے اور سزا کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔یوٹیوب ، فیس بک ، لنک ان ، ٹوئٹر ، ٹک ٹاک ، گوگل پلس کسی بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ہتک آمیز مواد کی شکایت کی جا سکے گی۔جبکہ پا کستان پینل کوڈ کے سیکشن 292،293،294،504 کے تحت غیر اخلا قی مواد پر پابندی عائد کی جا سکے گی جبکہ غلط معلومات کی تشہیر کو بھی روکا جا ئے گا۔جبکہ رولز کے مطابق سروس پروائیڈر اور سوشل میڈیا نیٹ ورک مالکان کو مواد ہٹانے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے اور شکایت کنندہ کا نام بھی صیغیہ راز میں رکھا جائے گا، خیال رہے کہ آئین کا آرٹیکل 19 ملک میں کسی بھی شہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔