
اقوام متحدہ سوپور میں ریاستی دہشت گردی کی تحقیقات کرائے: احسن انتو انسانی حقوق کے عالمی ادارے حقائق معلوم کرنے کے لئے سوپور کا دورہ کریں
سرینگر 22 جون ( ) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سوپور سے آنے والی خبروں میں انکشاف ہوا ہے کہ ہفتہ کی رات کو بھارتی فوجیوں نے ایک مذموم منصوبے کے تحت آرم پورہ سے بٹہ پورہ تک سوپور کے پورے قصبے کا محاصرہ کیا، 100 سے زائد نوجوانوں کو گرفتارکرکے ان کو ایک قطار میں کھڑ اکردیا اور بے رحمی سے ان کو مارنا شروع کردیا۔
انٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموںوکشمیرکی طرف سے جمع کئے گئے ثبوتوںکے مطابق سیلو وٹلب اورامرناتھ کیمپس میں تعینات بھارتی فوجیوں نے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ درجنوں لڑکے بے ہوش ہوگئے اور انہیں کوئی طبی امداد نہیں دی گئی اور اگر کسی نے ہسپتال لیجانے کے لئے کہاتو اس پربھی تشددکیاگیا۔نوجوانوں کو ”جے ہند “اور” جے شری رام“کے نعرے لگانے اور پاکستان کو گالیاں دینے پرمجبور کیا گیا ۔ لڑکوں کو اتنی بے رحمی سے مارا گیا تھا کہ وہ زخموں پر مرہم لگانے سے قاصرتھے کیونکہ زخم بہت گہرے اور خوفناک تھے اور طبی علاج سے بھی درد کم نہ ہوسکا۔ تمام لڑکے بستر پر پڑے ہیں اور لوگوں میں خوف اتنازیادہ ہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ نے قابض فورسز کی دہشت گردی کے بارے میں خبر بھی شائع نہیں کی۔نوجوانوں اوران کے اہلخانہ کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر انہوں نے اس دہشت گردی کے بارے میں کسی کو بتایا تو اس کے سنگین نتائج ہونگے۔ انٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسن انتو نے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، بین الاقوامی عدالت انصاف،ریڈ کراس، یورپی پارلیمانی گروپ، یورپی یونین اور دیگر تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ حقائق معلوم کرنے کے لئے سوپور کا دورہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ہر گھر میں ایک زخمی پڑاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی دہشت گردی کی یہ حکمت عملی لوگوں کو حق خودارادیت کے مطالبے سے روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے ریاستی دہشت گردی میں ملوث اہلکاروں کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے اقوام متحدہ کے ذرےعے غیر جانبدارنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔