چین کا پاکستان میں "ٹک ٹاک” کی بحالی کا خیر مقدم

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ نے پاکستان میں ’ٹک ٹاک‘ کی بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں خوشی کے دوستانہ مشاورت کے بعد یہ معاملہ حل کیا گیا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لیجیان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو سراہتے ہیں۔ ہمیں خوشی کے دوستانہ مشاورت کے بعد یہ معاملہ حل کیا گیا۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چینی حکومت کی جانب سے اپنے ملک کی کمپنیوں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وہاں کے مقامی اور بین الاقوامی قوانین، رسم ورواج اور مذہبی عقائد کا احترام کریں۔
واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود فحش مواد نہ ہٹانے پر رواں ماہ 9 اکتوبر کو ٹک ٹاک کو بند کر دیا تھا ، جس کے فوری بعد ہی ٹک ٹاک انتظامیہ نے حکومت پاکستان سے مذاکرات شروع کردیے تھے اور حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ فحش مواد کو ہٹایا جائے گا۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کئی سماجی حلقوں کی طرف سے ان شکایات کے بعد لگائی گئی تھی کہ اس کے بہت سے صارفین اسے فحاشی اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
بعدازاں پی ٹی اے نے چین کی مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی انتظامیہ کی طرف سے یقین دہانی کے بعد اس پر عائد پابندی کو ہٹا لیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس چینی ایپ کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان میں اس ایپ کے اپنی ویڈیوز کے ذریعے فحاشی پھیلانے کی بار بار کوشش کرنے والے اور غیر اخلاقی حرکات کے مرتکب صارفین کے اکاؤنٹ بند کر دیے جائیں گے اور اس ایپ کے ذریعے شیئر کیے جانے والے آن لائن مواد کو ملکی قوانین کے مطابق اعتدال پسندانہ بنایا جائے گا۔