
سانحہ موٹروے : لاہور ہائیکورٹ کا عابد کی گرفتاری پرانعام کا نوٹس
لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے زیادتی کیس کےمرکزی ملزم عابد کی گرفتاری پر 50 لاکھ انعام کا نوٹس لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے پولیس افسران کے لئے اعلان کردہ انعامی رقم پر آئی جی پنجاب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب پولیس افسران اپنی ذمہ داریاں بھی انعام کے لالچ میں ادا کر ینگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بچیوں سے زیادتی ہو رہی ہے، ملزمان دندناتے پھر رہے ہیں، سڑکوں پر پولیس کی سیکیورٹی نہیں، عابد ملہی پکڑا نہیں جاتا، سارے صوبہ کو پولیس سٹیٹ بنا دیا، کسی کو نہیں چھوڑیں گے، وردیاں اتروا کر گھر بھیجوائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پنجاب حکومت نے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلی ٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے بعد پولیس کیلئے 50لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا ۔
12 اکتوبر کومرکزی ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا ۔ ملزم عابد کا ساتھی شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، سی آئی اے کی ٹیم نے 14 ستمبر کو موٹروے زیادتی کیس کے ملزم شفقت کو دیپالپور سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم شفقت نے پولیس حراست میں اعتراف جرم کیا جبکہ ملزم کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کی رپورٹ سے میچ کر گیا تھا۔ مرکزی ملزم عابد کا ساتھی اقبال عرف بالا مستری پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہے۔
15 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شفقت سمیت گرفتار تینوں ملزمان کو 29 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
خیال رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ 2 افراد نے خاتون کی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگئے ۔