نوم چومسکی نے درست کہا کشمیر ایک جیل خانہ ہے‘ پروفیسر سوز

محبوبہ مفتی کی گرفتاری ایک انتقامی اقدام اور بھارتی حکومت کی طرف سے معاندانہ حملہ ہے

سرینگر غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد فسطائی بھارت حکومت کے اقدامات کی وجہ سے کانگرس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز جیسے بھارت نواز سیاستدان بھی اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے کہ کشمیر ایک جیل خانہ ہے اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی گرفتاری ایک انتقامی اقدام اور بھارتی حکومت کی طرف سے معاندانہ حملہ ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کانگرس کے سینئر رہنما نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ وہ عالمی شہرت یافتہ دانشور نوم چومسکی سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر ایک قید خانہ ہے اور یہاںفسطائیت کی علامات پہلے ہی دکھائی دے رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ محبوبہ مفتی کی نظربندی کوبھی ایک انتقامی اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں یہ احساس ہے کہ مشہور امریکی دانشور نوم چومسکی اس وقت درست تھے جب انہوں نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیر ایک جیل خانہ ہے اور بی جے پی حکومت کے تحت فسطائیت کی علامتیں پہلے ہی دکھائی دے رہی تھیں!پروفیسر سوز نے کہاکہ نوم چومسکی اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ بھارت کا پورا ادارہ جاتی ڈھانچہ اور ہندو آبادی کی بہت بڑی اکثریت کشمیر کی خصوصی حیثیت کو پامال کرنے اور علاقے میں بھارتی ہندوئوںکو بسانے میں ممدو معاون ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت میں پریس کی آواز دبائی گئی ہے۔ پروفیسر سوز نے نوم چومسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے کشمیر میں بھارتی جبر کے بارے میں بات کی تو انہیں بی جے پی کے حامیوں کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں پولیس کی حفاظت لینے کا مشورہ دیا گیا۔